تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 55
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام سورة الحاقة إِلَّا فِي الْعَالَمِ الْآخِرِ وَأَوَّلُ مَطالِعِهَا جہان میں ہی ظاہر ہوں گی اور ان کی پہلی جلوہ گاہ رب کریم عَرْشُ الرَّبِ الْكَرِيمِ الَّذِي لَمْ يَتَدَنَّسُ کا عرش ہو گا جو کبھی غیر اللہ کے وجود سے آلودہ نہیں ہوا اور بِوُجُودِ غَيْرِ اللهِ تَعَالَى وَصَارَ مَظْهَرًا تامًا وہ عرش پر پروردگار عالم کے انوار کا مظہر تام ہے اور اس الأَنْوَارٍ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَقَوائمه أَربع کے پائے چار ہیں۔ربوبیت، رحمانیت، رحیمیت اور رَبُوبِيَّةٌ وَرَحْمَانِيَّةٌ وَرَحِيْمِيَّةٌ وَمَالِكِيَّةُ مالكيت يوم الدین۔اور ظلی طور پر ان چاروں صفات کا ، يَوْمِ الدِّينِ۔وَلَا جَامِعَ لِهَذِهِ الْأَرْبَعِ عَلى مکمل طور پر جامع اللہ تعالی کے عرش یا انسان کامل کے وَجْهِ الظَّلِيَّةِ إِلَّا عَرْشُ اللہ تعالی وَقَلْبُ دل کے سوا اور کوئی نہیں ، اور یہ چاروں صفات اللہ تعالی الْإِنْسَانِ الْعَامِلِ وَهُذِهِ الصِّفَاتُ أُمَّهَاتُ کی باقی صفات کے لئے اصولی صفات ہیں اور وہ اس لِصِفَاتِ اللهِ كُلِّهَا وَوَقَعَتْ كَقَوَائِمِ عرش کے لئے بمنزلہ پایوں کے ہیں جس پر خدا تعالیٰ الْعَرْشِ الَّذِي اسْتَوَى اللهُ عَلَيْهِ وَفِي لفظ مستوی (جلوہ گر ) ہے اور خدا تعالیٰ کے مستوی ہونے الْإِسْتَوَاء إِشَارَةٌ إِلى هَذَا الْإِنْعِكاس على میں ذات باری کی صفات کے کامل انعکاس کی طرف الْوَجْهِ الْأَتَمِ الْأَكْمَلِ مِنَ الله الذى هُوَ اشارہ ہے جو بہترین خالق ہے۔پھر عرش کا ہر پایہ ایک أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ۔وَتَنْعَنِى كُلُّ قَائِمَةٍ مِن فرشتہ تک پہنچتا ہے جسے وہ اُٹھائے ہوئے ہے اور اس پایہ الْعَرْشِ إلى ملك هُوَ حَامِلُهَا وَمُدَیر کے متعلق امر کا انتظام کرتا ہے۔وہ اس کی تجلیات کے أَمْرِهَا وَمَوْرِدُ تَجَلْيَاتِهَا وَقَاسِمُهَا عَلَى پھیلانے کا ذریعہ بنتا ہے اور ان تجلیات کو بحصہ رسدی أَهْلِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِينَ فَهَذَا مَعْلى قَوْلِ آسمانوں اور زمینوں کے رہنے والوں پر تقسیم کرتا ہے۔اللهِ تَعَالَى وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ پس اللہ تعالیٰ کے قول وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يَحْمِلُوْنَ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةُ کے یہی معنی ہیں۔کیونکہ ملائکہ ان صفات صِفَاتًا فِيهَا حَقِيقَةٌ عَرْشِيَّةٌ وَالسر في الہیہ کو اٹھائے ہوئے ہیں جو عرش کی حقیقت سے متعلق ذلِكَ أَنَّ الْعَرْشَ لَيْسَ شَيْئًا مِنْ أَشْيَاء ہیں اور اس میں بھید یہ ہے کہ عرش اس دُنیا کی چیزوں میں الدُّنْيَا بَلْ هُوَ بَرْزَخٌ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ سے نہیں بلکہ وہ دُنیا اور آخرت کے درمیان برزخ اور وَمَبْدَأُ قَدِيم للتجلْبَاتِ الرَّبَّانِيَّةِ رب العالمين، الرحمن الرحیم ، مالک یوم الدین کی صفات وَالرَّحْمَانِيَّةِ وَالرَّحِيمِيَّةِ وَالْمَالِكِيَّةِ کی تجلیات کا ازلی منبع ہے تا احسانات الہیہ کا اظہار اور