تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 57
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۵۷ سورة الحاقة الْمَقْصَدِ وَكَثْرَةِ عَقَبَاتِه وَافَاتِه بہت سے پردے دور کر دیتا ہے اور اسے مقصد کی دوری وَيُنَورُهُ بِالنُّورِ الْإِلهِي وَيُدخِلُه في سے اور بہت سی درمیانی روکوں اور آفات سے نجات دے الْوَاصِلِينَ فَيَكُمُلُ لَهُ الْوُصُول دیتا ہے اور اسے (سالک) کو الہی نور سے منور کر دیتا ہے اور وَالشَّهُودُ مَعَ رُؤْيَتِهِ عَجَائِبَاتِ الْمَنَازِلِ زمرہ واصلین میں داخل کر دیتا ہے اور راہ سلوک کی منزلوں وَالْمَقَامَاتِ۔وَلَا شُعُورٌ لأَهل العقل اور مقامات کے عجائبات دیکھنے کے ساتھ ساتھ وہ وصال هذِهِ الْمَعَارِفِ وَالنَّعَاتِ وَلَا مَدْخَلَ الہی اور دیدار الہی کے مرتبہ وصول و شہود کو پالیتا ہے لیکن لِلْعَقْلِ فِيْهِ وَالْإطلاعُ بِأَمْقَالِ هذه فلسفیوں کو ان معارف اور باریکیوں کا کچھ بھی پتہ نہیں اور نہ الْمَعَانِي إِنَّمَا هُوَ مِنْ مِشْكَاةِ النُّبُوَّةِ ہی محض عقل کو اس شعور میں کوئی دخل ہے۔اور ایسے مطالب وَالْوِلَايَةِ وَمَا شَمَتِ الْعَقْلَ رائحتُه وَمَا اور معانی پر آگاہی صرف مشکوۃ نبوت اور ولایت سے كَانَ لِعَاقِلٍ أَنْ يَضَعَ الْقَدَمَ في هذا حاصل ہوتی ہے اور اس کی خوشبو عقل کو نہیں پہنچ سکتی اور نہ کسی الْمَوْضِع إِلَّا يُجَنْبَةٍ مِنْ جَنَّبَاتِ رَبِّ عظمند کے لئے ممکن ہے کہ وہ اس مقام پر بجز رب العالمین کی کسی کشش کے قدم مار سکے۔العالمين۔وَإِذَا انْفَكَتِ الْأَرْوَاحُ الطَّيِّبَةُ اور جب نیکوں کی پاک اور کامل روحیں ان مادی الْعَامِلَةُ مِنَ الْأَبْدَانِ وَيَتَطَهَّرُونَ عَلى جسموں سے الگ ہو جاتی ہیں اور وہ مکمل طور پر گناہوں کی وَجْهِ الْكَمَالِ مِنَ الْأَوْسَانِ وَالْأَخْرَانِ میل کچیل سے پاک ہو جاتے ہیں تو وہ فرشتوں کی وسائط يُعْرَضُونَ عَلَى اللهِ تَحْتَ الْعَزِش سے اللہ تعالیٰ کے سامنے عرش کے نیچے اس کے حضور پیش بِوَاسِطَةِ الْمَلَائِكَةِ فَيَأْخُذُونَ بِطَوْرٍ کئے جاتے ہیں تب وہ ایک نئے طور سے ربوبیت سے ایسا جَدِيدٍ حَظًّا مِنْ رَبُوْبِيَّتِهِ يُغَائِرُ رَبُوبِيَّةٌ حصہ پاتے ہیں جو پہلی ربوبیت سے بالکل مختلف ہوتا سَابِقَةً وَحَظًّا مِنْ رَحْمَانِيَّةٍ مُغَايِدِ ہے اور اسی طرح رحمانیت سے حصہ پاتے ہیں جو پہلی رَحْمَانِيَّةٍ أُوْلى وَحَظًّا مِن رَحِيْمِيَّة رحمانیت سے مختلف ہوتا ہے۔پھر وہ رحیمیت اور مالکیت وَمَالِكِيَّةٍ مُغَابِرَ مَا كَانَ فِي الدُّنْیا سے ایسا حصہ پاتے ہیں جو دُنیا میں ملنے والے حصہ سے فَهُنَالِكَ تَكُونُ ثَمَانِي صِفَاتٍ تَحْمِلُهَا مختلف ہوگا۔اس وقت ان صفات کی تعداد آٹھ ہو جائے گی ثَمَانِيَةٌ مِنْ مَلَائِكَةِ اللهِ بِاذْنِ أَحْسَن جن کو اللہ تعالی کے آٹھ فرشتے احسن الخالقین کے اذن سے