تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 48

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۸ سورة القلم ہیں جو اس کو پہچانتے ہیں۔اخلاق نیکیوں کی کلید ہے۔جیسے باغ کے دروازہ پر قفل ہو۔دُور سے پھل پھول نظر آتے ہیں۔مگر اندر نہیں جا سکتے۔لیکن اگر قفل کھول دیا جائے ، تو اندر جا کر پوری حقیقت معلوم ہوتی ہے اور دل و دماغ میں ایک سرور اور تازگی آتی ہے۔اخلاق کا حاصل کرنا گویا اس قفل کو کھول کے اندر داخل ہونا ہے۔کسی کو اخلاق کی کوئی قوت نہیں دی گئی مگر اس کو بہت سی نیکیوں کی توفیق ملی۔ترک اخلاق ہی بدی اور گناہ ہے۔ایک شخص جو مثلاً زنا کرتا ہے۔اُس کو خبر نہیں کہ اُس عورت کے خاوند کو کس قدر صدمہ عظیم پہنچتا ہے۔اب اگر یہ اُس تکلیف اور صدمہ کو محسوس کر سکتا اور اس کو اخلاقی حصہ حاصل ہوتا ، تو ایسے فعل شنیع کا مرتکب نہ ہوتا۔اگر ایسے نابکار انسان کو یہ معلوم ہو جاتا کہ اس فعل بد کے ارتکاب سے نوع انسان کے لئے کیسے کیسے خطر ناک نتائج پیدا ہوتے ہیں تو ہٹ جاتا۔ایک شخص جو چوری کرتا ہے۔کمبخت ظالم اتنا بھی تو نہیں کرتا کہ رات کے کھانے کے واسطے ہی چھوڑ جائے۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک غریب کی کئی سالوں کی محنت کو ملیا میٹ کر دیتا ہے اور جو کچھ گھر میں پاتا ہے۔سب کا سب لے جاتا ہے۔ایسی فتیح بدی کی اصل جڑ کیا ہے؟ اخلاقی قوت کا نہ ہونا۔اگر رحم ہوتا اور وہ یہ سمجھ سکتا کہ بچے بھوک سے بلبلا ئیں گے۔جن کی چیخوں سے دشمن کا بھی کلیجہ لرزتا ہے اور یہ معلوم کر کے کہ رات سے بھوکے ہیں اور کھانے کو ایک سوکھا ٹکڑا بھی نہیں ملا، تو پتہ پانی ہو جاتا ہے۔اب اگر ان حالتوں کو محسوس کرتا اور اخلاقی حالت سے اندھا نہ ہوتا، تو کیوں چوری کرتا۔آئے دن اخبارات میں دردناک موتوں کی خبریں پڑھنے میں آتی ہیں کہ فلاں بچہ زیور کے لالچ سے مارا گیا۔فلاں جگہ کسی عورت کو قتل کر ڈالا۔میں خود ایک مرتبہ اسیر ہو کر گیا تھا۔ایک شخص نے بارہ آنے یا ع ۲ ( سوار و پیر ) میں ایک بچہ کا خون کیا تھا۔اب سوچ کر دیکھو کہ اگر اخلاقی حالت درست ہو تو ایسی مصیبتیں کیوں آئیں؟ احکام جلد ۴ نمبر ۲۵ مورخه ۹ جولائی ۱۹۰۰ صفحه ۴،۳) طلق اور طلق دو لفظ ہیں خلق تو ظاہری حسن پر بولا جاتا ہے اور خلق باطنی حسن پر بولا جاتا ہے باطنی قومی جس قدر مثل عقل، فہم سخاوت شجاعت غضب وغیرہ انسان کو دیئے گئے ہیں ان سب کا نام خلق ہے اور عوام الناس میں آج کل جسے خُلق کہا جاتا ہے جیسے ایک شخص کے ساتھ تکلف کے ساتھ پیش آنا اور تصنع سے اس کے ساتھ ظاہری طور پر بڑی شیریں الفاظی سے پیش آنا تو اس کا نام خلق نہیں بلکہ نفاق ہے۔ایسر ASSESSOR)