تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 47
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۷ سورة القلم کان، ناک یہاں تک کہ بال وغیرہ بھی سب خلق میں شامل ہیں اور خلق باطنی پیدائش کا نام ہے۔ایسا ہی باطنی قومی جو انسان اور غیر انسان میں مابہ الامتیاز ہیں وہ سب خلق میں داخل ہیں۔یہاں تک کہ معقل فکر وغیرہ تمام قوتیں خلق ہی میں داخل ہیں۔خُلق سے انسان اپنی انسانیت کو درست کرتا ہے۔اگر انسانوں کے فرائض نہ ہوں تو فرض کرنا پڑے گا کہ آدمی ہے؟ گدھا ہے؟ یا کیا ہے؟ جب خُلق میں فرق آ جاوے تو صورت ہی رہتی ہے۔مثلاً عقل ماری جاوے تو مجنون کہلاتا ہے صرف ظاہری صورت سے ہی انسان کہلاتا ہے۔پس اخلاق سے مراد خدا تعالیٰ کی رضا جوئی ( جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی میں مجسم نظر آتی ہے ) کا حصول ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرز زندگی کے موافق اپنی زندگی بنانے کی کوشش کرے۔یہ اخلاق بطور بنیاد کے ہیں۔اگر وہ متزلزل رہے تو اس پر عمارت نہیں بنا سکتے۔اخلاق ایک اینٹ پر دوسری اینٹ کا رکھنا ہے۔اگر ایک اینٹ ٹیڑھی ہو تو ساری دیوار ٹیڑھی ہی رہتی ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحه ۱۵۲،۱۵۱) اخلاق کی درستی بہت ضروری چیز ہے، کیونکہ نیکیوں کی ماں اخلاق ہی ہے۔خیر کا پہلا درجہ جہاں سے انسان قوت پاتا ہے۔اخلاق ہے۔دو لفظ ہیں۔ایک خلق اور دوسرا خلق خلق ظاہری پیدائش کا نام ہے اور خلق باطنی پیدائش کا۔جیسے ظاہر میں کوئی خوب صورت ہوتا ہے اور کوئی بہت ہی بدصورت۔اسی طرح پر کوئی اندرونی پیدائش میں نہایت حسین اور دلربا ہوتا ہے اور کوئی اندر سے مجذوم اور مبروص کی طرح مکروہ۔لیکن ظاہری صورت چونکہ نظر آتی ہے، اس لیے ہر شخص دیکھتے ہی پہچان لیتا ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے اور نہیں چاہتا کہ بدصورت اور بد وضع ہو، مگر چونکہ اس کو دیکھتا ہے اس لیے اُس کو پسند کرتا ہے اور خلق کو چونکہ دیکھا نہیں، اس لیے اُس کی خوبی سے نا آشنا ہو کر اُس کو نہیں چاہتا۔ایک اندھے کے لئے خوبصورتی اور بدصورتی دونوں ایک ہی ہیں۔اسی طرح وہ پر انسان جس کی نظر اندرونہ تک نہیں پہنچتی ، اس اندھے کی ہی مانند ہے۔خلق تو ایک بدیہی بات ہے۔مگر خلق ایک نظری مسئلہ ہے۔اگر اخلاقی بدیاں اور ان کی لعنت معلوم ہو۔تو حقیقت کھلے۔غرض اخلاقی خوب صورتی ایک ایسی خوبصورتی ہے، جس کو حقیقی خوبصورتی کہنا چاہیے۔بہت تھوڑے