تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 49
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۹ سورة القلم خُلق سے مراد یہ ہے کہ اندرونی قوی کو اپنے اپنے مناسب مقام پر استعمال کیا جاوے جہاں شجاعت دکھانے کا موقع ہو وہاں شجاعت دکھاوے جہاں صبر دکھانا ہے وہاں صبر دکھا دے۔جہاں انتظام چاہئے وہاں انتقام لیوے۔جہاں سخاوت چاہئے وہاں سخاوت کرے۔یعنی ہر ایک محل پر ہر ایک قومی کو استعمال کیا جاوے نہ گھٹا یا جاوے نہ بڑھایا جاوے۔یہاں تک کہ عقل اور غضب بھی جہاں تک کہ اس سے نیکی پر استعانت لی جاوے خُلق ہی میں داخل ہے اور صرف ظاہری حواس کا نام ہی حواس نہیں ہے بلکہ انسان کے اندر بھی ایک قسم کے حواس ہوتے ہیں ظاہری حواس تو حیوانوں میں بھی ہوتے ہیں جیسے کھانا پینا ، دیکھنا، چھونا وغیرہ مگر اندرونی حواس انسانوں میں ہی ہوتے ہیں۔مثلاً اگر ایک بکری گھاس کھا رہی ہے اور دوسری بکری آجاوے تو پہلی بکری کے اندر یہ ارادہ پیدا نہ ہوگا کہ اسے بھی ہمدردی سے گھاس کھانے میں شریک کرے۔اسی طرح شیر میں اگر چہ زور اور طاقت تو ہوتی ہے مگر ہم اسے شجاع نہیں کہہ سکتے کیونکہ شجاعت کے واسط محل اور بے محل دیکھنا بہت ضروری ہے انسان اگر جانتا ہے کہ مجھ کو فلاں شخص سے طاقت مقابلہ کی نہیں ہے یا اگر میں وہاں جاؤں گا تو قتل ہو جاؤں گا تو اس کا وہاں نہ جانا ہی شجاعت میں داخل ہوگا پھر اگر محل اور موقع کے لحاظ سے مناسب دیکھے کہ میرا وہاں جانا ضروری ہے خواہ جان خطرہ میں پڑتی ہو۔تو اس مقام پر جانے کا نام شجاعت ہے۔جاہل آدمیوں سے جو بعض وقت بہادری کا کام ہوتا ہے حالانکہ ان کو محل بے محل دیکھنے کی تمیز نہیں ہوتی اس کا نام تہور ہوتا ہے کہ وہ ایک طبعی جوش میں آ جاتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ یہ کام کرنا چاہئے تھا کہ نہیں۔غرضیکہ انسان کے نفس میں یہ سب صفات مثل صبر، سخاوت، انتقام، ہمت، بخل، عدم بخل، حسد، عدم حسد ہوتی ہیں اور ان کو اپنے محل اور موقع پر صرف کرنے کا نام مطلق ہے حسد بہت بری بلا ہے لیکن جب موقع کے ساتھ اپنے مقام پر رکھا جاوے تو پھر بہت عمدہ ہو جاوے گا۔حسد کے معنے ہیں دوسرے کا زوال نعمت چاہنا لیکن جب اپنے نفس سے بالکل محو ہو کر ایک مصلحت کے لئے دوسرے کا زوال چاہتا ہے تو اس وقت یہ ایک محمود صفت ہو جاتی ہے جیسے کہ ہم تثلیث کا زوال چاہتے ہیں۔(البدر جلد اوّل نمبر ۱۱ مورخه ۹/جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۸۳) اگر انسان نہایت پر غور نگاہ سے دیکھے تو اسے معلوم ہوگا کہ جانور کھلے طور پر خلق رکھتے ہیں۔میرے مذہب میں سب چرند پرند ایک خلق ہیں اور انسان اس کے مجموعہ کا نام ہے یہ نفس جامع ہے اور اسی لیے عالم صغیر کہلاتا ہے کہ کل مخلوقات کے کمال انسان میں یکجائی طور پر جمع ہیں اور کل انسانوں کے کمالات بہیت مجموعی