تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 14

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴ سورة الطلاق سے بچتا ہے اس کو متقی کہتے ہیں۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ تو متقی کے لیے وعدہ کرتا ہے کہ مَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَّهُ مَخْرَجًا یعنی جو اللہ تعالیٰ کے لیے تقویٰ اختیار کرتا ہے تو ہر مشکل سے اللہ تعالیٰ اس کو رہائی دے دیتا ہے۔لوگوں نے تقویٰ کے چھوڑنے کے لیے طرح طرح کے بہانے بنارکھے ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ جھوٹ بولے بغیر ہمارے کاروبار نہیں چل سکتے اور دوسرے لوگوں پر الزام لگاتے ہیں کہ اگر سچ کہا جائے تو وہ لوگ ہم پر اعتبار نہیں کرتے۔پھر بعض لوگ ایسے ہیں۔جو کہتے ہیں کہ سود لینے کے بغیر ہمارا گزارہ نہیں ہو سکتا۔ایسے لوگ کیوں کر متقی کہلا سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ تو وعدہ کرتا ہے کہ میں متقی کو ہر ایک مشکل سے نکالوں گا۔اور ایسے طور سے رزق دوں گا جو گمان اور وہم میں بھی نہ آسکے۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے جو لوگ ہماری کتاب پر عمل کریں گے ان کو ہر طرف سے اوپر سے اور نیچے سے رزق دوں گا۔البدر جلد ۳ نمبر ۲۵ مورخہ یکم جولائی ۱۹۰۴ء صفحه ۵،۴) ہم ایسے مہوسوں کو ایک کیمیا کانسخہ بتلاتے ہیں بشرطیکہ وہ اس پر عمل کریں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ بس تقویٰ ایک ایسی چیز ہے کہ جسے یہ حاصل ہوا سے گویا تمام جہان کی نعمتیں حاصل ہو گئیں۔یادرکھو متقی کبھی کسی کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ وہ اس مقام پر ہوتا ہے کہ جو چاہتا ہے خدا اس کے لئے اس کے مانگنے سے پہلے مہیا کر دیتا ہے۔میں نے ایک دفعہ کشف میں اللہ تعالیٰ کو تمثل کے طور پر دیکھا۔میرے گلے میں ہاتھ ڈال کر فرمایا۔جے توں میرا ہور ہیں سب جگہ تیرا ہو۔بس یہ وہ نسخہ ہے جو تمام انبیاء و اولیاء و صلحاء کا آزمایا ہوا ہے۔( اخبار بدر جلد ۶ نمبر ۱۷ مورخه ۲۵ را پریل ۱۹۰۷ صفحه ۸) تو کل کرنے والے اور خدا کی طرف جھکنے والے کبھی ضائع نہیں ہوتے۔جو آدمی صرف اپنی کوششوں میں رہتا ہے اس کو سوائے ذلت کے اور کیا حاصل ہو سکتا ہے۔جب سے دُنیا پیدا ہوئی ہمیشہ سے سنت اللہ یہی چلی آتی ہے کہ جو لوگ دنیا کو چھوڑتے ہیں وہ اس کو پاتے ہیں اور جو اس کے پیچھے دوڑتے ہیں وہ اس سے محروم رہتے ہیں جو لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے وہ اگر چند روز مکر و فریب سے کچھ حاصل بھی کر لیں تو وہ لا حاصل ہے کیونکہ آخر ان کو سخت نا کامی دیکھنی پڑتی ہے۔اسلام میں عمدہ لوگ وہی گزرے ہیں جنہوں نے دین کے مقابلہ میں دنیا کی کچھ پروانہ کی۔ہندوستان میں قطب الدین اور معین الدین خدا کے اولیاء گزرے