تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 13

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳ سورة الطلاق ( البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخه ۱/۲۴ پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۰۹) اُسے عطا فرماتا ہے۔جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے گا اس کو اللہ ایسے طور سے رزق پہنچائے گا کہ جس طور سے معلوم بھی نہ ہوگا۔رزق کا خاص طور سے اس واسطے ذکر کیا کہ بہت سے لوگ حرام مال جمع کرتے ہیں اگر وہ خدا تعالی کے حکموں پر عمل کریں اور تقویٰ سے کام لیویں تو خدا خودان کو رزق پہنچا دے۔البدر جلد ۲ نمبر ۲۸ مورخه ۳۱ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۱۷) خوف الہی اور تقوئی بڑی برکت والی شے ہے انسان میں اگر عقل نہ ہو مگر یہ باتیں ہوں تو خدا اسے اپنے پاس سے برکت دیتا ہے اور عقل بھی دے دیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا اس کے یہی معنے ہیں کہ جس شے کی ضرورت اسے ہوگی اس کے لیے وہ خود راہ پیدا کر دے گا بشرطیکہ انسان متقی ہو لیکن اگر تقویٰ نہ ہوگا تو خواہ فلاسفر ہی ہو وہ آخر کا ر تباہ ہوگا۔(البدر جلد ۲ نمبر ۴۳ مورخه ۱۶ نومبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۳۳) تقویٰ اس بات کا نام ہے کہ جب وہ دیکھے کہ میں گناہ میں پڑتا ہوں تو دعا اور تد بیر سے کام لیوے ورنہ نادان ہو گا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے مَن يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ كه جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے وہ ہر ایک مشکل اور تنگی سے نجات کی راہ اس کے لیے پیدا کر دیتا ہے۔متقی در حقیقت وہ ہے کہ جہاں تک اس کی قدرت اور طاقت ہے وہ تد بیر اور تجویز سے کام لیتا ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۴۸ مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۸۴)۔جن کا اللہ تعالی متولی ہو جاتا ہے۔وہ دنیا کے آلام سے نجات پا جاتے ہیں اور ایک کچی راحت اور طمانیت کی زندگی میں داخل ہو جاتے ہیں۔اُن کے لیے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہر ایک بلا اور الم سے نکال لیتا ہے اور اس کے رزق کا خود کفیل ہو جاتا ہے اور ایسے طریق سے دیتا ہے کہ جو وہم اور گمان میں بھی نہیں آ سکتا۔دنیا میں کئی قسم کے جرائم ہوتے ہیں۔بعض جرائم قانون کی حد میں آسکتے ہیں اور بعض قانون کی حد میں بھی نہیں آسکتے۔گناہ خون اور نقب زنی وغیرہ جب کرتا ہے تو اُن کی سزا قانون سے پاسکتا ہے۔لیکن جھوٹ وغیرہ جو معمولی طور پر بولتا ہے یا بعض حقوق کی رعایت نہیں رکھتا وغیرہ ایسی باتیں ہوتی ہیں جن کے لیے قانون تدارک نہیں کرتا۔لیکن اللہ تعالیٰ کے خوف سے اور اس کو راضی کرنے کے لیے جو شخص ہر ایک بدی