تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 370 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 370

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٧٠ سورة العصر فجار کے سلسلہ کا ذکر یوں فرمایا اِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِی خُسر اور دوسرے سلسلہ کو اس طرح پر الگ کیا إِلَّا الَّذِينَ امَنُوا وَ عَمِلُوا الصّلِحَتِ یعنی ایک وہ ہیں جو خسران میں ہیں مگر خسران میں مومن اور عمل صالح کرنے والے نہیں ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ خسران میں وہ ہیں جو مومن اور عمل صالح کرنے والے نہیں۔یاد رکھو کہ صلاح کا لفظ وہاں آتا ہے جہاں فساد کا بالکل نام ونشان نہ رہے۔انسان کبھی صالح نہیں کہلا سکتا۔جب تک وہ عقا مدرد یہ اور فاسدہ سے خالی نہ ہو اور پھر اعمال بھی فساد سے خالی ہو جا ئیں۔الخام جلد ۵ نمبر ۳۰ مورخه ۱۷ راگست ۱۹۰۱ صفحه ۲۰۱) اصلاح تب ہوتی ہے کہ تحمیل عملی کے مراتب حاصل ہو جائیں پس سورة العصر میں جو إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصلحت فرمایا ہے اس میں امنوا سے تکمیل علمی کی طرف اشارہ فرمایا اور عملوا الصلحت سے تکمیل عملی کی طرف رہبری کی۔حکمت کے بھی دو ہی حصے ہیں ایک علم اکمل اور اتم ہو دوسرے عمل اتم اور اکمل ہو۔پس اللہ تعالی فرماتا ہے کہ جو لوگ خسر سے محفوظ رہتے ہیں اول وہ تکمیل علمی کرتے ہیں اور پھر عمل بھی گندے نہیں کرتے بلکہ علمی تکمیل کو عملی تکمیل تک پہنچاتے ہیں اور پھر یہ کہ جب انہیں کامل بصیرت حاصل ہو جاتی ہے اور ان کے کمال علم کا ثبوت کمال عمل سے ملتا ہے تو پھر وہ بخل نہیں کرتے بلکہ تواصوا بالحق پر عمل کرتے ہیں۔لوگوں کو بھی اس حق کی دعوت کرتے ہیں جو انہوں نے پایا ہے۔اس کے یہ معنی بھی ہیں کہ اعمال کی روشنی سے بھی دکھاتے ہیں۔واعظ اگر خود عمل نہیں کرتا تو اس کی باتوں کا کچھ بھی اثر نہیں پڑ سکتا۔یہ بھی قاعدہ کی بات ہے کہ اگر خود آدمی کہے اور کرے نہیں تو اس کا بہت برا اثر پڑتا ہے اگر زنا کار زنا سے منع کرے تو اس کی اس حالت کے ثابت ہو جانے پر سننے والوں کے دہر یہ ہو جانے کا اندیشہ ہے کیونکہ وہ خیال کریں گے کہ اگر زنا کاری واقعی خطرناک چیز ہوتی اور خدا تعالیٰ کے حضور اس ناپاکی پر سزا ملتی ہے اور خدا واقعی ہوتا تو پھر یہ جو منع کرتا تھا خود کیوں اس سے پرہیز نہ کرتا۔مجھے معلوم ہے کہ ایک شخص ایک مولوی کی صحبت کے باعث مسلمان ہونے لگا۔ایک روز اس نے دیکھا کہ وہی مولوی شراب پی رہا تھا تو اس کا دل سخت ہو گیا اور وہ رک گیا۔غرض تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ میں یہ فرمایا کہ وہ اپنے اعمال کی روشنی سے دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں اور پھر ان کا یہ شیوہ ہوتا ہے تواصوا بالصبر یعنی صبر کے ساتھ وعظ ونصیحت کا شیوہ اختیار کرتے ہیں جلدی جھاگ منہ پر نہیں لاتے۔اگر کوئی مولوی اور پیش رو