تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 369 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 369

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۹ سورة العصر کوئی وجہ دیکھتے ہیں کہ خدا کے پاک نبیوں کے متفق علیہ کلمہ سے انکار کریں۔پھر جبکہ اس قدر ثبوت موجود ہے اور بلاشبہ احادیث اور قرآن شریف کے رو سے یہ آخری زمانہ ہے۔پھر آخری ہزار ہونے میں کیا شک رہا اور آخری ہزار کے سر پر مسیح موعود کا آنا ضروری ہے۔(لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۱۰،۲۰۹) خدا تعالیٰ نے اس دنیا کو ایک دن مقرر کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو عصر کے وقت سے ۱۳۲۴ تشبیہ دی ہے۔پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ عصر ہوا تو پھر اب تیرہ سو چو ہمیں برس کے بعد اس زمانہ کا کیا نام رکھنا چاہیئے ؟ کیا یہ وقت قریب غروب نہیں اور پھر جب قریب غروب ہوا تو مسیح کے نازل ہونے کا اگر یہ وقت نہیں تو پھر اس کے بعد تو کوئی وقت نہیں۔اسی طرح احادیث صحیحہ میں جو بعض ان کی صحیح بخاری میں پائی جاتی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو عصر سے تشبیہ دی ہے۔پس اس سے ماننا پڑتا ہے کہ ہمارا زمانہ قیامت کے قرب کا زمانہ ہے اور پھر دوسری حدیثوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عمر دُنیا کی سات ہزار سال ہے۔اور قرآن شریف کی اس آیت سے بھی یہی مفہوم ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ (الحج: ۴۸) یعنی ایک دن خدا کے نزدیک تمہارے ہزار سال کے برابر ہے۔پس جبکہ خدا تعالیٰ کی کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ دن سات ہیں۔پس اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ انسانی نسل کی عمر سات ہزار سال ہے جیسا کہ خدا نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ سورۃ العصر کے عدد جس قدر حساب جمل کی رو سے معلوم ہوتے ہیں اسی قدر زمانہ نسل انسان کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک تک بحساب قمری گزر چکا تھا کیونکہ خدا نے حساب قمری رکھا ہے اور اس حساب سے ہماری اس وقت تک نسل انسان کی عمر چھ ہزار برس تک ختم ہو چکی ہے اور اب ہم ساتویں ہزار میں ہیں اور یہ ضرور تھا کہ مثیل آدم جس کو دوسرے لفظوں میں مسیح موعود کہتے ہیں چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہو جو جمعہ کے دن کے قائم مقام ہے جس میں آدم پیدا ہوا۔اور ایسا ہی خدا نے مجھے پیدا کیا۔پس اس کے مطابق چھٹے ہزار میں میری پیدائش ہوئی۔اور یہ عجیب اتفاق ہوا کہ میں معمولی دنوں کی رو سے بھی جمعہ کے دن پیدا ہوا تھا۔اور جیسا کہ آدم نر اور مادہ پیدا ہوئے تھے میں بھی تو ام کی شکل پر پیدا ہوا تھا۔ایک میرے ساتھ لڑکی تھی جو پہلے پیدا ہوئی اور بعد میں اس کے میں پیدا ہوا۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۵۸،۲۵۷) سورۃ والعصر میں دوسلسلوں کا ذکر فرمایا ہے ایک ابرار و اخیار کا سلسلہ ہے اور دوسرا کفار اور فجار کا۔کفار اور