تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 371 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 371

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام سورة العصر ہوکر ، امام اور راہنما بن کر جلدی بھڑک اٹھتا ہے اور اس میں برداشت اور صبر کی طاقت نہیں تو وہ لوگوں کو کیوں نقصان پہنچاتا ہے۔دوسرے یہ بھی مطلب ہے کہ جو باتیں سنے والا صبر سے نہ سنے وہ فائدہ نہیں اُٹھاتا۔ہمارے مخالف برد باری کا دل لے کر نہیں آتے اور صبر سے اپنی مشکلات پیش نہیں کرتے بلکہ انکا تو یہ حال ہے کہ وہ کتاب تک تو دیکھنا نہیں چاہتے اور شور مچا کر حق کو ملبس کرنے کی سعی کرتے ہیں پھر وہ فائدہ اٹھائیں تو کیوں کر اُٹھا ئیں۔ابوجہل اور ابولہب میں کیا تھا ؟ یہی بے صبری اور بیقراری تو تھی کہتے تھے کہ تو خدا کی طرف سے آیا ہے تو کوئی نہر لے آ۔ان کم بختوں نے صبر نہ کیا اور ہلاک ہو گئے ورنہ زبیدہ والی نہر تو آہی گئی۔اسی طرح پر ہمارے مخالف بھی کہتے ہیں کہ ہمارے لئے دعا کرو اور وہ معا قبول ہو جائے اور پھر اس کو حق و باطل کا معیار ٹھہراتے ہیں اور اپنی طرف سے بعض امور پیش کر کے کہتے ہیں کہ یہ ہو جائے اور ہو جائے تو مان لیں لیکن آپ کسی شرط کے نیچے نہیں آتے۔افسوس یہی لوگ ہیں جو لَا يَخَافُ عُقْبُهَا کے مصداق ہیں۔یاد رکھو صبر ہی شرح صدر کا رتبہ پاتا ہے جو صبر نہیں کرتا وہ گویا خدا پر حکومت کرتا ہے خود اس کی حکومت میں رہنا نہیں چاہتا۔ایسا گستاخ اور دلیر جو خدا تعالیٰ کے جلال اور عظمت سے نہیں ڈرتا وہ محروم کر دیا جاتا ہے اور اسے کاٹ دیا جاتا ہے پھر یہ بات بھی یادرکھنی چاہیے کہ صبر کی حقیقت میں سے یہ بھی ضروری بات ہے گونوا مع الصدِقِينَ صادقوں کی صحبت میں رہنا ضروری ہے۔بہت سے لوگ ہیں جو دور بیٹھ رہتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ کبھی آئیں گے اس وقت فرصت نہیں ہے۔بھلا تیرہ سوسال کے موعود سلسلہ کو جولوگ پالیس اور اس کی نصرت میں شامل نہ ہوں اور خدا اور رسول کے موعود کے پاس نہ بیٹھیں وہ فلاح پاسکتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔ہم خدا خواہی و ہم دنیائے دوں این خیال است و محال است و جنوں الحکم جلد ۵ نمبر ۳۱ مورخه ۲۴ /اگست ۱۹۰۱ صفحه ۲، ۳)۔قسم ہے اس زمانہ کی یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی۔آج کل ہمارے زمانہ کے کوتاہ اندیش مخالف یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن شریف میں مخلوق کی قسمیں کیوں کھائی گئی ہیں حالانکہ دوسروں کو منع کیا ہے اور کہیں انجیر کی قسم ہے کہیں دن اور رات کی اور کہیں زمین کی اور کہیں نفس کی ؟ اس قسم کے اعتراضوں کا بہت برا اثر پڑتا ہے۔یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ تمام قرآن شریف میں یہ ایک عام سنت اور عادت الہی ہے کہ وہ بعض نظری امور کے اثبات و احقاق کے لئے کسی ایسے امور کا حوالہ دیتا ہے جو اپنے خواص کا عام طور پر بین اور کھلا کھلا اور بدیہی ثبوت رکھتے ہیں۔پس ان کی قسم کھانا ان کو بطور دلیل اور نظیر