تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 252
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۲ سورة الفجر ہیں اور روحانی وراثت سے جن کو حصہ ملتا ہے۔میری بہشت میں داخل ہو جا۔یہ آیت جیسا کہ ظاہر بین سمجھتے ہیں کہ مرنے کے بعد اسے آواز آتی ہے آخرت پر ہی موقوف نہیں بلکہ اسی دنیا میں اسی زندگی میں یہ آواز آتی ہے۔اہلِ سلوک کے مراتب رکھے ہوئے ہیں۔ان کے سلوک کا انتہائی نقطہ یہی مقام ہے جہاں ان کا سلوک ختم ہو جاتا ہے اور وہ مقام یہی نفسِ مطمئنہ کا مقام ہے۔اہلِ سلوک کی مشکلات کو اللہ تعالیٰ اُٹھا دیتا ہے اور ان کو صالحین میں داخل کر دیتا ہے۔انتقام جلد ۸ نمبر ۲ مورخه ۷ ارجنوری ۱۹۰۴ صفحه ۲،۱) تیسر انفسِ مطمئنہ ہے جو کہ اس جنگ میں غالب آجاتا ہے اور نفس اور شیطان پر فتح حاصل کرتا ہے۔اس کا نام مطمئنہ اس لئے ہے کہ یہ اطمینان یافتہ ہو جاتا ہے۔انسان کے ہر ایک قومی پر اس کا قابو ہو جاتا ہے اور طبیعی طور پر اس سے نیکی کے کام سرزد ہوتے ہیں۔البدر جلد ۳ نمبر ۳ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۴ء صفحه ۳) مطمئنہ میں کوئی زنجیر باقی نہیں رہتی سب کی سب اتر جاتی ہیں اور وہی زمانہ انسان کا خدا کی طرف پکے رجوع کا ہوتا ہے اور وہی خدا کے کامل بندے ہوتے ہیں جو کہ نفسِ مطمئنہ کے ساتھ دنیا سے علیحدہ ہو دیں اور جب تک وہ اسے حاصل نہ کر لے تب تک اسے مطلق علم نہیں ہوتا کہ جنت میں جاوے گا یا دوزخ میں۔البدر جلد ۳ نمبر ۳۴ مورخه ۸ ستمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۷) مطمعنہ وہ ہے جو بکلی صلح کر لیتا ہے۔آخری حد انسان کی ترقیات کی یہی ہے۔اس وقت خدا کی رضا اس کی رضا ہو جاتی ہے۔اس کا ارادہ وہی ہوتا ہے جو خدا کا ارادہ ہوتا ہے۔( البدر جلدے نمبر ۲۵ مورخه ۲۵ /جون ۱۹۰۸ء صفحه ۵) نفس کی تین حالتیں ہیں یا یہ کہو کہ نفس تین رنگ بدلتا ہے۔بچپن کی حالت میں نفس زکیہ ہوتا ہے یعنی بالکل سادہ ہوتا ہے۔اس عمر کے طے کرنے کے بعد پھر نفس پر تین حالتیں آتی ہیں۔سب سے اول جو حالت ہوتی ہے اس کا نام نفس امارہ ہے۔اس حالت میں انسان کی تمام طبعی قو تیں جوش زن ہوتی ہیں اور اس کی ایسی مثال ہوتی ہے جیسے دریا کا سیلاب آجاوے اس وقت قریب ہے کہ غرق ہو جاوے۔یہ جوش نفس ہر قسم کی بے اعتدالیوں کی طرف لے جاتا ہے لیکن پھر اس پر ایک حالت اور بھی آجاتی ہے جس کا نام نفس لوامہ ہے۔اس کا نام لوامہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ وہ بدی پر ملامت کرتا ہے اور یہ حالت نفس کی روا نہیں رکھتی کہ انسان ہر