تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 253 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 253

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۳ سورة الفجر قسم کی بے اعتدالیوں اور جوشوں کا شکار ہوتا چلا جاوے جیسا کہ نفس امارہ کی صورت میں تھا بلکہ نفس لوامہ اسے بدیوں پر ملامت کرتا ہے یہ سچ ہے کہ نفس لوامہ کی حالت میں انسان بالکل گناہ سے پاک اور بری نہیں ہوتا مگر اس میں بھی کوئی کلام نہیں کہ اس حالت میں انسان کی شیطان اور گناہ کے ساتھ ایک جنگ ہوتی رہتی ہے کبھی شیطان غالب آجاتا ہے اور کبھی وہ غالب آتا ہے مگر نفس لوامہ والا خدا تعالیٰ کے رحم کا مستحق ہوتا ہے اس لئے کہ وہ بدیوں کے خلاف اپنے نفس سے جنگ کرتا رہتا ہے اور آخر اسی کشمکش اور جنگ وجدل میں اللہ تعالیٰ اس پر رحم کر دیتا ہے اور اسے وہ نفس کی حالت عطا ہوتی ہے جس کا نام مطمئنہ ہے یعنی اس حالت میں مع انسان شیطان اور نفس کی لڑائی میں فتح پا کر انسانیت اور نیکی کے قلعہ کے اندر آکر داخل ہو جاتا ہے اور اس قلعہ کو فتح کر کے مطمئن ہو جاتا ہے۔اس وقت یہ خدا پر راضی ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ اس پر راضی ہوتا ہے کیونکہ یہ پورے طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت میں فنا اور محو ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی مقادیر کے ساتھ اس کو پوری صلح اور رضا حاصل ہوتی ہے چنانچہ فرمایا یا تهَا النَّفْسُ الْمُطْمَينَةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عَبْدِي وَادْخُلِی جَنَّتی یعنی اے نفس آرام یافتہ جو خدا سے آرام پا گیا ہے اپنے خدا کی طرف واپس چلا آ۔تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔پس میرے بندوں میں مل جا اور میرے بہشت کے اندر آ جا۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ سچار جوع اس وقت ہوتا ہے جبکہ خدا تعالیٰ کی رضا سے رضائے انسان مل جاوے۔یہ وہ حالت ہے جہاں انسان اولیاء اور ابدال اور مقربین کا درجہ پاتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ سے مکالمہ کا شرف ملتا ہے اور وحی کی جاتی ہے۔اور چونکہ وہ ہر قسم کی تاریکی اور شیطانی شرارت سے محفوظ ہوتا ہے۔ہر وقت اللہ تعالیٰ کی رضا میں زندہ ہوتا ہے اس لئے وہ ایک ابدی بہشت اور سرور میں ہوتا ہے۔انسانی ہستی کا مقصد اعلیٰ اور غرض اسی مقام کا حاصل کرنا ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو اسلام کے لفظ میں اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے کیونکہ اسلام سے سچی مراد یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع اپنی رضا کرلے مگر سچ یہ ہے کہ یہ مقام انسان کی اپنی قوت سے نہیں مل سکتا ہاں اس میں کلام نہیں کہ انسان کا فرض ہے کہ وہ مجاہدات کرے لیکن اس مقام کے حصول کا اصل اور سچا ذریعہ دعا ہے۔انسان کمزور ہے جب تک دعا سے قوت اور تائید نہیں پاتا اس دشوار گزار منزل کو طے نہیں کرسکتا۔۔الحکم جلد ۸ نمبر ۳۲ مورخه ۲۴ رستمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۴) تیسری قسم نفس کی نفس مطمعنہ ہے جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے يايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَينَةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ۔۔۔۔