تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 251 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 251

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۱ سورة الفجر لو کیونکہ وہ رضا بالقضاء کے مقام پر ہوتے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ حقیقی ایمان اس وقت تک پیدا ہو ہی نہیں سکتا جب تک انسان اس درجہ کو حاصل نہ کرے کہ خدا کی مرضی اس کی مرضی ہو جائے دل میں کوئی کدورت اور تنگی محسوس نہ ہو بلکہ شرح صدر کے ساتھ اس کی ہر تقدیر اور قضا کے سامنے کو طیار ہو۔اس آیت میں راضِيَةً مَرْضِيّةٌ کا لفظ اس کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔یہ رضا کا اعلیٰ مقام ہے جہاں کوئی ابتلا باقی نہیں رہتا۔دوسرے جس قدر مقامات ہیں وہاں ابتلا کا اندیشہ رہتا ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ سے بالکل راضی ہو جاوے اور کوئی شکوہ شکایت نہ رہے اس وقت محبت ذاتی پیدا ہو جاتی ہے اور جب تک اللہ تعالیٰ سے محبت ذاتی پیدا نہ ہو تو ایمان بڑے خطرہ کی حالت میں ہے لیکن جب ذاتی محبت ہو جاتی ہے تو انسان شیطان کے حملوں سے امن میں آجاتا ہے۔اس ذاتی محبت کو دعا سے حاصل کرنا چاہیے۔جب تک یہ محبت پیدا نہ ہو انسان نفس امارہ کے نیچے رہتا ہے اور اس کے پنجہ میں گرفتار رہتا ہے اور ایسے لوگ جو نفس امارہ کے نیچے ہیں ان کا قول ہے ایہہ جہان مٹھا تو اگلا کن ڈٹھا۔یہ لوگ بڑی خطرناک حالت میں ہوتے ہیں۔اور لوامہ والے ایک گھڑی میں ولی اور ایک گھڑی میں شیطان ہو جاتے ہیں ان کا ایک رنگ نہیں رہتا کیونکہ ان کی لڑائی نفس کے ساتھ شروع ہوتی ہے جس میں کبھی وہ غالب اور کبھی مغلوب ہوتے ہیں تاہم یہ لوگ محل مدح میں ہوتے ہیں کیونکہ ان سے نیکیاں بھی سرزد ہوتی ہیں اور خوف خدا بھی ان کے دل میں ہوتا ہے لیکن نفسِ مطمئنہ والے بالکل فتحمند ہوتے ہیں اور وہ سارے خطروں اور خوفوں سے نکل کر امن کی جگہ میں جا پہنچتے ہیں وہ اس دارالامان میں ہوتے ہیں جہاں شیطان نہیں پہنچ سکتا۔لوامہ والا جیسا کہ میں نے کہا ہے دارالامان کی ڈیوڑھی میں ہوتا ہے اور کبھی کبھی دشمن بھی اپنا وار کر جاتا ہے اور کوئی لاٹھی مار جاتا ہے اس لئے مطمعنہ والے کو کہا ہے فَادْخُلى في عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي۔یہ آواز اس وقت آتی ہے جب وہ اپنے تقویٰ کو انتہائی مرتبہ پر پہنچا دیتا ہے۔تقویٰ کے دو درجے ہیں بدیوں سے بچنا اور نیکیوں میں سرگرم ہونا یہ دوسرا مرتبہ محسنین کا ہے۔اس درجہ کے حصول کے بغیر اللہ تعالی خوش نہیں ہو سکتا اور یہ مقام اور درجہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل ہی نہیں ہو سکتا۔جب انسان بدی سے پر ہیز کرتا ہے اور نیکیوں کے لئے اس کا دل تڑپتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ سے دعا ئیں کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی دستگیری کرتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے دارالامان میں پہنچادیتا ہے اور فادخلی فی عبدی کی آواز اسے آجاتی ہے یعنی تیری جنگ اب ختم ہو چکی ہے اور میرے ساتھ تیری صلح اور آشتی ہو چکی ہے۔اب آمیرے بندوں میں داخل ہو جا جو صِرَاطَ الَّذِيْنَ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے مصداق