تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 223

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۳ سورة الطارق تصور کرتی ہے یہ روز مرہ کی بات ہے۔جہالت اور تعصب سے اعتراض کرنا اور بات ہے لیکن حقیقت کو مدنظر رکھ کر کوئی بات کہنا اور۔اب جبکہ یہ عام طریق ہے کہ قسم بطور گواہ کے ہوتی ہے پھر یہ کیسی سیدھی بات ہے کہ اسی اصول پر قرآن شریف کی قسموں کو دیکھ لیا جاوے کہ وہاں اس سے کیا مطلب ہے؟ اللہ تعالیٰ نے جہاں کوئی قسم کھائی ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ نظری امور کے اثبات کے لئے بدیہی کو گواہ ٹھہراتا ہے جیسے فرمایا وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجُعِ وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ إِنَّهُ لَقَولُ فَصل۔اب یہ بھی ایک قسم کا محل ہے۔نادان قرآن شریف کے حقائق سے ناواقف اور نابلد اپنی جہالت سے یہ اعتراض کر دیتا ہے کہ دیکھوز مین کی یا آسمان کی قسم کھائی لیکن اس کو نہیں معلوم کہ اس قسم کے نیچے کیسے کیسے معارف موجود ہیں۔اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وحی الہی کے دلائل اور قرآن شریف کی حقانیت کی شہادت پیش کرنی چاہتا ہے اور اس کو اس طرز پر پیش کیا ہے۔الحکم جلدے نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ / مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۳) اب اس قسم کی قسم پر اعتراض کرنا بجز نا پاک فطرت یا بلید اطبع انسان کے دوسرے کا کام نہیں کیونکہ اس میں تو عظیم الشان صداقت موجود ہے صحیفہ فطرت کی عام شہادت کے ذریعہ اللہ تعالی کلام الہی اور نزول وحی کی حقیقت بتانی چاہتا ہے۔سماء کے معنی بادل کے بھی ہیں جس سے مینہ برستا ہے۔آسمان اور زمین میں ایسے تعلقات ہیں جیسے نر و مادہ میں ہوتے ہیں۔زمین میں بھی کنوئیں ہوتے ہیں لیکن زمین پھر بھی آسمانی پانی کی محتاج رہتی ہے جب تک آسمان سے بارش نہ ہو زمین مردہ بھی جاتی ہے اور اس کی زندگی اس پانی پر منحصر ہے جو آسمان سے آتا ہے۔اسی واسطے فرمایا ہے اِعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا - (الحديد : ۱۸) اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب آسمان سے پانی برسنے میں دیر ہو اور امساک براں ہو تو کنوؤں کا پانی بھی خشک ہونے لگتا ہے اور ان ایام میں دیکھا گیا ہے کہ پانی اتر جاتا ہے لیکن جب برسات کے دن ہوں اور مینہ بر سنے شروع ہوں تو کنوؤں کا پانی بھی جوش مار کر چڑھتا ہے کیونکہ اوپر کے پانی میں قوت جاذ بہ ہوتی ہے۔اب براہموں سوچیں کہ اگر آسمانی پانی نازل ہونا چھوڑ دے تو سب کنوئیں خشک ہو جا ئیں۔اسی طرح پر ہم یہ مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک نور قلب ہر ایک انسان کو دیا ہے اور اس کے دماغ میں عقل رکھی ہے جس سے وہ برے بھلے میں تمیز کرنے کے قابل ہوتا ہے۔لیکن اگر نبوت کا نور آسمان سے نازل نہ ہو اور یہ سلسلہ بند ہو جاوے تو دماغی عقلوں کا سلسلہ جاتا رہے اور نور قلب پر تار یکی پیدا ہو جاوے اور وہ بالکل کام دینے کے قابل نہ رہے کیونکہ یہ سلسلہ اسی نور نبوت سے روشنی پاتا ہے۔جیسے بارش ہونے پر زمین کی روئید گیاں نکلنی