تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 224
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۴ سورة الطارق شروع ہو جاتی ہیں اور ہر تخم پیدا ہونے لگتا ہے اسی طرح پر نور نبوت کے نزول پر دماغی اور ذہنی عقلوں میں ایک صفائی اور نور فراست میں ایک روشنی پیدا ہوتی ہے اگر چہ یہ علی قدر مراتب ہوتی ہے اور استعداد کے موافق ہر شخص فائدہ اُٹھاتا ہے خواہ وہ اس امر کو محسوس کرے یا نہ کرے لیکن یہ سب کچھ ہوتا اس نور نبوت کے طفیل ہے۔غرض اس قسم میں نزول وحی کی ضرورت کو ایک عام مشاہدہ کی رو سے ثابت کیا ہے کہ جیسے آسمانی پانی کے نہ برسنے کی وجہ سے زمین مرجاتی اور کنوؤں کا پانی خشک ہونے لگتا ہے یہی قانون نزول وحی کے متعلق ہے۔رجع پانی کو کہتے ہیں۔حالانکہ پانی زمین پر بھی ہوتا ہے لیکن آسمان کو ذاتِ الرّجع کہا ہے۔اس میں یہ فلسفہ بتایا ہے کہ اصلی آسمانی پانی ہی ہے۔چنانچہ کہا ہے ؎ باران که در لطافت طبعش خلاف نیست در باغ لاله روید و در شوره بوم خس کہ جو کیفیت بارش کے وقت ہوتی ہے وہی نزول وحی کے وقت۔دو قسم کی طبیعتیں موجود ہوتی ہیں ایک تو مستعد ہوتی ہیں اور دوسری بلید مستعد طبیعت والے فوراً سمجھ لیتے ہیں اور صادق کا ساتھ دے دیتے ہیں لیکن بلید الطبع نہیں سمجھ سکتے اور وہ مخالفت پر اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔دیکھو کہ معظمہ میں جب وحی کا نزول ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خدا تعالیٰ کا کلام اتر نے لگا تو ابو بکر رضی اللہ عنہ اور ابو جہل ایک ہی سرزمین کے دو شخص تھے۔ابوبکر نے تو کوئی نشان بھی نہ مانگا اور مجرد دعویٰ سنتے ہی امنا کہہ کر ساتھ ہولیا۔مگر ابو جہل نے نشان پر نشان دیکھے مگر تکذیب سے باز نہ آیا اور آخر خدا تعالیٰ کے قہر کے نیچے آکر ذلت کے ساتھ ہلاک ہوا۔غرض خدا تعالیٰ کی وحی ہر قسم کی طبیعتوں کو باہر نکال دیتی ہے۔طیب اور خبیث میں امتیاز کر کے دکھا دیتی ہے۔وہ بہار کا موسم ہوتا ہے اس وقت ممکن نہیں کہ کوئی تخم شگفتگی کے لئے نہ نکلے لیکن جو کچھ ہوگا وہی برآمد ہوگا۔نیک اور سعید الفطرت اپنی جگہ پر نمودار ہوتے ہیں اور خبیث الگ۔اور اس سے پہلے وہ ملے جلے ہوئے ہوتے ہیں۔جیسے گندم اور بھگھاٹ کے دانے ملے ہوئے تو رہتے ہیں لیکن جب زمین سے نکلتے ہیں تو دونوں الگ نظر آتے ہیں مالک گندم کی حفاظت کرتا اور بھاگھاٹ کو نکال کر باہر پھینکتا ہے۔پس نزول وحی کے ثبوت کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ مشاہدہ پیش کیا ہے جس کو نادان اپنی نادانی اور جہالت سے اعتراض کے رنگ میں پیش کرتا ہے حالانکہ اس میں ایک عظیم الشان فلسفہ رکھا ہوا ہے اسی لئے وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجُعِ وَالْأَرْضِ