تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 222
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۲ سورة الطارق گئی تھی جہاں خدائے واحد ہاں جی و قیوم خدا کی پرستش ہوتی ہو۔عیسائیوں کی مردہ پرست قوم تثلیث کے چکر میں پھنسی ہوئی تھی اور ویدوں میں توحید کا بے جا دعوی کرنے والے ہندوستان کے رہنے والے ۳۳ کروڑ دیوتاؤں کے پوجاری تھے۔غرض خود خدا تعالیٰ نے جو نقشہ اس وقت کی حالت کا ان الفاظ میں کھینچا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم :۴۲) یہ بالکل سچا ہے اور اس سے بہتر انسانی زبان اور قلم اس حالت کو بیان نہیں کر سکتی۔اب دیکھو کہ جیسے خدا تعالیٰ کا قانون عام ہے کہ عین امساک بارش کے وقت آخر اس کا فضل ہوتا ہے اور بارانِ رحمت برس کر شادابی بخشتا ہے اسی طرح پر ایسے وقت میں ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کا کلام آسمان سے نازل ہوتا۔گویا ان جسمانی بارش کے نظام کو دکھا کر روحانی بارش کے نظام کی طرف رہبری کی ہے۔اب اس سے کون انکار کرے گا کہ بارش ہمارے مقاصد کے موافق ہوتی ہے۔اس سے مطلب یہ ہے کہ جیسے وہ نظام رکھا ہے اسی طرح دوسری بارشوں کے لئے وقت رکھے ہیں۔اب دیکھ لو کہ کیا یہ بارش روحانی کا ذکر نہ تھا۔کس قدر جھگڑے تم لوگوں میں بپا تھے۔اعمال گندے اور ایمان بھی گندے تھے اور دنیا ہلاکت کے گڑھے میں گرنے والی تھی پھر وہ کیوں کر اپنے فضل کا مینہ نہ برساتا۔جس نے جسم فانی کی حفاظت کے لئے ایک خاص نظام رکھا ہے پھر روحانی نظام کو کیوں کر چھوڑتا اس لئے بارش کے نظام کو بطور شاہد پیش کر کے قسم کے رنگ میں استعمال کیا کیونکہ امر نبوت ایک روحانی اور نظری امر تھا اور کفار عرب اس نظام کو نہ سمجھ سکتے تھے اس لئے وہ پہلا نظام پیش کر کے ان کو سمجھا دیا۔غرض یہ ایک سر ہے جس کو جاہلوں نے سمجھا نہیں اور اپنی نادانی اور عداوت حق کی بنا پر اعتراض کر دیا ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ مئی ۱۹۰۱ صفحه ۴ و احکام جلد ۵ نمبر ۲۱ مورخه ۱۰ر جون ۱۹۰۱ صفحه ۱ تا ۳) آریہ اور عیسائی اعتراض کر دیتے ہیں کہ قرآن شریف میں قسمیں کیوں کھائی ہیں؟ اور پھر اپنی طرف سے حاشیہ چڑھا کر اس کو عجیب عجیب اعتراضوں کے پیرایہ میں پیش کرتے ہیں حالانکہ اگر ذرا بھی نیک نیتی اور فہم سے کام لیا جاوے تو ایسا اعتراض بیہودہ اور بے سود معلوم دیتا ہے کیونکہ قسموں کے متعلق دیکھنا یہ ضروری ہوتا ہے کہ قسم کھانے کا اصل مفہوم اور مقصد کیا ہوتا ہے؟ جب اس کی فلاسفی پر غور کر لیا جاوے تو پھر یہ خود بخودسوال حل ہو جاتا ہے اور زیادہ رنج اٹھانے کی نوبت ہی نہیں آتی۔عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ قسم کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ قسم بطور قائم مقام گواہ کے ہوتی ہے اور یہ مسلم بات ہے عدالت جب گواہ پر فیصلہ کرتی ہے تو کیا اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ جھوٹ پر فیصلہ کرتی ہے یا قسم کھانے والے کی قسم کو ایک شاہد صادق