تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 184

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۴ سورة التكوير لوگ کہنے لگ گئے ہیں کہ وَإِذَا الْعِشَارُ عُظَلَتْ کا زمانہ آ گیا۔عِشَار ( گیا بھن اونٹنیاں ) کا لفظ خود ظاہر کرتا ہے کہ یہ سب قیامت سے پہلے ہوگا کیونکہ اس دن کی نسبت تو لکھا ہے کہ ہر حمل والی اپنی حمل گرا دے گی اور پھر اس دن تو ہر چیز معطل ہو جائے۔اونٹنیوں کی خصوصیت کیا ہے۔مطلب یہ تھا کہ اب تجارت کا دارو مدار اونٹنیوں پر ہے پھر ریل پر ہوگا اور چونکہ حدیث میں یہی زمانہ مسیح موعود کا لکھا ہے اس لئے اب عرب والوں کو مسیح موعود کی تلاش کرنی چاہیے۔دیکھو اب تو ان کے گھر میں ریل بن رہی ہے اور خود ہمارے دشمن اس میں سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔یہ بھی ایک نشان ہے کہ ہمارے دشمنوں کو خدا نے ہمارے کام میں لگا دیا ہے۔چندہ تو دے رہے ہیں وہ اور صداقت ہماری ثابت ہوگی۔( بدر جلدے نمبر ۳ مورخه ۲۳ جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۳) مسلم نے۔۔۔۔۔آخری زمانہ کے علامات کا ذکر کرتے ہوئے ایک نئی سواری کا ذکر کر کے یہ کہا کہ لَيُتْرَكَنَ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْها اور قرآن شریف نے اس مضمون کو عبارت ذیل میں بیان فرما کر اور بھی صراحت کر دی کہ اِذَا الْعِشَارُ عُطلت۔قرآن وحدیث کا تطابق اور پھر عملی رنگ میں اس دور دراز زمانہ میں جبکہ ان پیشگوئیوں کو ۱۳ سو برس سے بھی زائد عرصہ گزر چکا ہے ان کا پورا ہونا ایمان کو کیسا تازہ اور مضبوط کرتا ہے۔چنانچہ ایک اخبار میں ہم نے دیکھا ہے کہ شاہ روم نے تاکیدی حکم دیا ہے کہ ایک سال کے اندر حجاز ریلوے تیار ہو جاوے۔سبحان اللہ کیسا عجیب نظارہ ہوگا اور ایمان کیسے تازہ ہوں گے کہ جب پیشگوئی کے بالکل مطابق بجائے اونٹوں کی لمبی لمبی قطاروں کے ریل کی لمبی قطار میں دوڑتی ہوئی نظر آئیں گی۔پس جب یہ پیشگوئی جو آثار قرب قیامت اور مسیح موعود کی آمد کے نشان میں سے ایک زبر دست اور اقتداری پیشگوئی ہے پوری ہو رہی ہے تو ایمان لانا چاہیے کہ مسیح موعود بھی موجود ہے۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۰ مورخه ۲۲ مارچ ۱۹۰۸ء صفحه ۳) منجملہ اور علامات کے جو ہمارے آنے کے واسطے اللہ اور رسول کی کتابوں میں مندرج ہیں ایک اونٹوں کی سواریوں کا معطل ہو جانا بھی ہے چنانچہ اس مضمون کو قرآن شریف نے بالفاظ ذیل تعبیر کیا ہے واذا الْعِشَارُ عُظلت اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس مضمون کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ لیترگن الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا۔اب سوچنے والے کو چاہیے کہ ان امور میں جو آج سے تیرہ سو برس پیشتر خدا اور اس کے رسول کے منہ سے نکلے اور اس وقت وہ الفاظ بڑی شان اور شوکت سے پورے ہو کر اپنے کہنے والوں کے جلال کا اظہار کر رہے ہیں۔دیکھئے اب اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے کیسے کیسے سامان پیدا ا