تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 185
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۵ سورة التكوير ہورہے ہیں حتی کہ حجاز ریلوے کے تیار ہو جانے پر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے سفر بھی بجائے اونٹ کے ریل کے ذریعہ ہوا کریں گے اور اونٹنیاں بیکار ہو جاویں گی۔(الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۱ مورخه ۶ رمئی ۱۹۰۸ صفحه ۴) بطور پیشگوئی بیان فرمایا ہے کہ ایک ایسا زمانہ بھی آتا ہے کہ جب سفر کرنے کے سامان سہل طور پر میسر آجائیں گے اور اونٹنیوں کی سواری کی حاجت نہیں رہے گی اور سفر میں بہت آرام اور سہولت میسر آجائے گی اور ایک ایسی نئی سواری پیدا ہو جائے گی کہ ایک حصہ دنیا کو دوسرے حصہ سے ملا دے گی اور ایک ملک کے لوگوں کو دوسرے ملک کے لوگوں سے اکٹھے کر دے گی جیسا کہ یہ دو آیتیں اسی پیشگوئی پر مشتمل ہیں اور وہ یہ ہیں وَإِذَا الْعِشَارُ عُقِلَتْ وَإِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ یعنی وہ زمانہ آتا ہے کہ اونٹیاں بیکار کر دی جائیں گی۔جاننا چاہیے کہ عرب کی تجارت اور سفر کا مدار تمام اونٹنیوں پر ہے اس لئے اونٹوں کا ہی ذکر کیا۔یہ تو ہر ایک شخص جانتا ہے کہ مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ تک حاجیوں کے پہنچانے کے لئے تیرہ سو برس سے صرف اونٹنیوں کی سواری چلی آتی ہے۔پس اس جگہ خدا تعالیٰ یہ خبر دیتا ہے کہ وہ زمانہ آتا ہے کہ وہ سواری موقوف کر دی جائے گی اور بجائے اس کے ایک نئی سواری ہوگی جو آرام اور جلدی کی ہوگی اور یہ بات اس سے نکلتی ہے کہ جو بدل اختیار کیا جاتا ہے وہ مبدل منہ سے بہتر ہوتا ہے۔دوسری آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ زمانہ آتا ہے کہ جب کہ بچھڑے ہوئے لوگ باہم ملا دیئے جائیں گے اور اس قدر باہمی ملاقاتوں کے لئے سہولتیں میسر آجائیں گی اور اس کثرت سے ان کی ملاقاتیں ہوں گی کہ گو یا مختلف ملکوں کے لوگ ایک ہی ملک کے باشندے ہیں۔سو یہ پیشگوئی ہمارے اس زمانہ میں پوری ہو گئی جس سے ایک عالم گیر انقلاب ظہور میں آیا گویا دنیا بدل گئی کیونکہ دخانی جہازوں اور ریلوں کے ذریعہ سے وہ روکیں جو پہاڑوں کی مانند حائل تھیں سب اُٹھ گئیں اور ایک دنیا مشرق سے مغرب کو اور مغرب سے مشرقی بلا د کو آتی ہے۔چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۸۱ تا ۸۳ ) قیامت کے قرب اور مسیح موعود کے آنے کا وہ زمانہ ہے جبکہ اونٹنیاں بیکار ہو جائیں گی یہ آیت صحیح مسلم کی اس حدیث کی مصدق ہے جہاں لکھا ہے کہ وَيُتْرَكُ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں اونٹنیاں بریکار چھوڑ دی جائیں گی اور ان پر کوئی سوار نہیں ہوگا۔یہ ریل گاڑی پیدا ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جب کوئی اعلیٰ سواری میسر آتی ہے تبھی ادنی سواری کو چھوڑتے ہیں۔اور دوسری آیت گویا اس کا نتیجہ ہے اور ترجمہ اس کا یہ ہے کہ اس زمانہ میں بعض آدمی بعض سے ملائے جائیں گے اور ظاہری تفرقہ قوموں کا دور ہو