تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 183
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۳ سورة التكوير چیرے جاویں گے۔کتابوں اور اخباروں کی اشاعت ہوگی۔اور یہ بھی لکھا تھا وَ إِذَا الْعِشَارُ عُظلت یعنی ایک ایسی سواری نکلے گی جس کی وجہ سے اونٹنیاں بریکار ہو جائیں گی۔اور ایسا ہی حدیث میں بھی فرمایا گیا تھا يُتْرَكُ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْقا۔اب دیکھ لو کہ ریل کے اجراء سے یہ پیشگوئی کیسی صاف صاف پوری ہوگئی اور عنقریب جب مکہ تک ریل آئے گی تو اور بھی اس کا نظارہ قابلِ دید ہوگا جب وہاں کے اونٹ بیکار ہو جائیں گے۔مگر میں افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ انہوں نے محض میرے ساتھ بخل کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک پر بھی حملہ کیا اور آپ کی پیشگوئیوں کی تکذیب کی۔وہ امر جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت ثابت ہوتی تھی میری عداوت کی وجہ سے اسے مٹانا چاہا ہے۔مجھ سے عداوت ہی سہی لیکن آپ کی پیشگوئی کو کیوں پامال کر دیا۔الحکم جلد نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۷ صفحه ۹۰۸) سول اخبار میں لکھا ہے کہ روز بروز اب اونٹ بیکار ہوتے جاتے ہیں۔کیسی بین طور پر قرآن شریف اور حدیث کی تصدیق ہوتی جاتی ہے۔حدیث میں لکھا ہے وَلَيُترَكَنَ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا اور قرآن شریف میں وَ اِذَا الْعِشَارُ عُظِلت لکھا ہے۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب دنیا میں کوئی مامور من اللہ مبعوث ہوتا ہے تو زمانہ میں جتنی بڑی بڑی کارروائیاں ہوں اور بڑے بڑے انقلاب ظہور میں آویں تو وہ سب اسی کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۳ مورخه ۷ار تمبر ۱۹۰۷ ، صفحہ ۱۰) 11 سورۃ تکویر میں سب نشانات آخری زمانے کے ہیں۔انہی میں سے ایک نشان ہے وَ إِذَا الْعِشَارُ عطلت یعنی جب اونٹنیاں بریکار چھوڑی جائیں گی۔اس کی تفسیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وَلَيُتْرَكَنَ الْقِلَاصُ فَلَا يُسعى عَلَيْهَا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود بھی اسی زمانہ میں ہوگا بلکہ اس کے ابتدائی زمانے کے یہ نشان ہیں۔پھر فرما یا وَ اِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ یعنی ایسے اسباب سفر مہیا ہو جائیں گے کہ قو میں باوجود اتنی دور ہونے کے آپس میں مل جائیں گی حتی کہ نئی دنیا پرانی سے تعلقات پیدا کر لے گی۔۔۔۔۔۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سفر کی تمام راہیں نہ کھلی تھیں۔تفسیر کبیر میں لکھا ہے کہ بعض ایسے مقامات بھی ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت نہیں پہنچی مگر اب تو ڈاک تار، ریل سے زمین کے اس سرے سے اس سرے تک خبر پہنچ سکتی ہے۔یہ حجاز ریلوے جو بن رہی ہے یہ بھی اسی پیشگوئی کے ماتحت ہے عرب کے کئی