تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 182 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 182

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۲ سورة التكوير تا کہ معلوم ہو جاوے کہ یہ قیامت کا ذکر نہیں ہے صرف قرینہ کے واسطے یہ لفظ لکھا ہے ورنہ ضرورت نہ تھی۔اگر پیشگوئیوں کا صدق اس دنیا میں نہ کھلے تو پھر اس کا فائدہ کیا ہوسکتا ہے اور ایمان کو کیا ترقی ہو؟ بیوقوف لوگ ہر ایک پیشگوئی کو صرف قیامت پر لگاتے ہیں۔اور جب پوچھو تو کہتے ہیں کہ اس دنیا کی نسبت کوئی پیشگوئی قرآن شریف میں نہیں ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۲۴ مورخه ۳/ جولائی ۱۹۰۳ء صفحه ۱۸۵) ایک اور نشان اس زمانہ کا وہ نئی سواری تھی جس نے اونٹوں کو بریکار کر دینا تھا قرآن نے وَ إِذَا الْعِشَارُ عطلت ( جب اونٹیاں بیکار ہو جاویں گی ) کہہ کر اس زمانہ کا پتہ بتلایا۔حدیث نے مسیح کے نشان میں یوں کہا لَيُترَكَنَ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْخى عَلَيْهَا پھر یہ نشان کیا پورا نہ ہوا ؟ حتی کہ اس سرزمین میں بھی جہاں آج تک اوٹنی کی سواری تھی اور بغیر اونٹنیوں کے گزارہ نہ تھا وہاں بھی اس سواری کا انتظام ہو گیا ہے اور چند سالوں میں اونٹوں کی سواری کا نام ونشان نہیں ملے گا۔اونٹنیاں بیکار ہو گئیں۔مقرر کردہ نشان پورے ہو گئے لیکن جس کا یہ نشان تھا وہ پہچانا نہ گیا۔کیا یہ امور بھی میرے اختیار میں تھے کہ ایک طرف تو میں دعوی کروں اور دوسری طرف یہ نشان پورے ہوتے جاویں۔البدر جلد ۳ نمبر ۳۰ مورخه ۸ / اگست ۱۹۰۴ ء صفحه ۴) قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے اور احادیث صحیحہ اس کی تصدیق کرتی ہیں کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ایک نئی سواری پیدا ہوگی جس سے اونٹ بیکار ہو جا ئیں گے جب کہ قرآن شریف میں ہے وَإِذَا الْعِشَارُ عطلت اور حدیث صحیحہ میں ہے وَيُتْرَكُ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا۔اب آپ لوگ جانتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان بھی ریل طیار ہورہی ہے۔اس عظیم الشان پیشگوئی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک اخبار والے نے لکھا ہے کہ مکہ مدینہ والے بھی یہ نظارہ دیکھ لیں گے کہ اونٹوں کی قطاروں کی بجائے ریل گاڑی وہاں چلے گی۔قرآن شریف میں جو یہ فرما یاوَ إِذَا الْعِشَارُ عُطّلت اس کے متعلق نواب صدیق حسن خاں نے لکھا ہے کہ عشار حاملہ اونٹنی کو کہتے ہیں اس لئے یہ لفظ اللہ تعالیٰ نے اختیار فرمایا تا کہ یہ سمجھ آجاوے کہ اسی دنیا کے متعلق ہے کیونکہ حاملہ ہونا تو اسی دنیا میں ہوتا ہے۔اسی طرح نہروں کا نکالے جانا، چھاپے خانوں کی کثرت اور اشاعت کتب کے ذریعوں کا عام ہونا ، اسی قسم کے بہت سے نشان ہیں جو اس زمانہ سے مخصوص تھے اور وہ پورے ہو گئے ہیں۔الحکم جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخه ۱۷ارستمبر ۱۹۰۴ صفحه ۶) اس آخری زمانے کے نشانات میں بتایا گیا تھا کہ نہریں نکالی جاویں گی اور نئی آبادیاں ہوں گی۔پہاڑ