تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 149 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 149

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۱۴۹ سورة المرسلت بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة المرسلت بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ وَ الْمُرْسَلَتِ عُرُفاتٌ فَالْعَصِفْتِ عَصْفَانَ وَ النُّشِرَتِ نَشْرَان فَالْفَرِقْتِ فَرْقَان فَالْمُلْقِيتِ ذِكْرً ا ل عُذرًا أَوْ نُذَرَان قسم ہے ان ہواؤں کی اور ان فرشتوں کی جو نرمی سے چھوڑے گئے ہیں اور قسم ہے ان ہواؤں کی اور ان فرشتوں کی جو زور اور شدت کے ساتھ چلتے ہیں اور قسم ہے ان ہواؤں کی جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں اور ان فرشتوں کی جو ان بادلوں پر مؤکل ہیں اور قسم ہے ان ہواؤں کی جو ہر یک چیز کو جو معرض ذکر میں آجائے کانوں تک پہنچاتی ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو الہی کلام کو دلوں تک پہنچاتے ہیں۔اورق ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۳۶، ۱۳۷ حاشیه ) اس آیت قرآن کریم میں اس زمانہ اور طاعون کے متعلق پیشگوئی ہے وَالْمُرْسَلَتِ عُرُفًا فَالْعَصِفَتِ عَصْفًا - وَ الثَّشِرْتِ نَشْرًا فَالْفَرِقْتِ فَرْقًا - فَالْمُلْقِيتِ ذِكْرًا۔عُدْرًا أَوْ نُذرًا۔قسم ہے ان ہواؤں کی جو آہستہ چلتی ہیں۔یعنی پہلا وقت ایسا ہو گا کہ کوئی کوئی واقعہ طاعون کا ہو جایا کرے۔پھر وہ زور پکڑے اور تیز ہو جاوے۔پھر وہ ایسی ہو کہ لوگوں کو پراگندہ کر دے۔اور پریشان خاطر کر دے۔پھر ایسے واقعات ہوں کہ مومن اور کافر کے درمیان فرق اور تمیز کر دیں۔اس وقت لوگوں کو سمجھ آ جائے گی کہ حق کس امر میں ہے۔آیا اس امام کی اطاعت میں یا اس کی مخالفت میں۔یہ مجھ میں آنا بعض کے لیے صرف حجت کا موجب ہوگا۔(عُذرا )