تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 150
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۰ سورة المرسلت یعنی مرتے مرتے اُن کا دل اقرار کر جائے گا کہ ہم غلطی پر تھے اور بعض کے لیے (نذرا ) یعنی ڈرانے کا موجب ہوگا کہ وہ تو بہ کر کے بدیوں سے باز آویں۔الحکم جلد ۶ نمبر ۱۵ مورخه ۱/۲۴ پریل ۱۹۰۲ صفحه ۹) وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ۔اور جس وقت پہاڑ اُڑائے جائیں گے اور ان میں سڑکیں پیادوں اور سواروں کے چلنے کی یاریل کے چلنے کے لئے بنائی جائیں گی۔شہادت القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۱۸) وَقَدْ ظَهَرَ اكْثَرُ عَلَامَاتِهَا وَذَكَرَهَا بہت سے اس زمانہ کے علامات قرآن شریف الْقُرْآن ذكرًا۔۔۔۔وَ إِنَّ الْجِبَالَ نُسِفَتْ اَكْثَرُهَا میں مرقوم ہیں۔۔۔۔اور پہاڑ اپنی جگہ سے ہل گئے کہ فَمَا تَرَوْنَ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۱۲۱، ۱۲۲) کوئی اونچائی مچائی باقی نہ رہی۔( ترجمہ اصل کتاب سے ) وَإِذَا الرُّسُلُ يُقتَتْ اور جب رسول وقت مقرر پر لائے جائیں گے یہ اشارہ در حقیقت مسیح موعود کے آنے کی طرف ہے اور اس بات کا بیان مقصود ہے کہ وہ عین وقت پر آئے گا اور یادر ہے کہ کلام اللہ میں رسل کا لفظ واحد پر بھی اطلاق۔پاتا ہے اور غیر رسول پر بھی اطلاق پاتا ہے اور یہ میں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ اکثر قرآن کریم کی آیات کئی وجوہ کی جامع ہیں جیسا کہ یہ احادیث سے ثابت ہے کہ قرآن کے لئے ظہر بھی ہے اور بطن بھی۔پس اگر رسول قیامت کے میدان میں بھی شہادت کے لئے جمع ہوں تو امنا و صد فتا لیکن اس مقام میں جو آخری زمانہ کی ابتر علامات بیان فرما کر پھر اخیر پر یہ بھی فرما دیا کہ اس وقت رسول وقت مقرر پر لائے جائیں گے۔تو قرآئن ہینہ صاف طور پر شہادت دے رہے ہیں کہ اس ظلمت کے کمال کے بعد خدا تعالیٰ کسی اپنے مرسل کو بھیجے گا۔تا مختلف قوموں کا فیصلہ ہواور چونکہ قرآن شریف سے ثابت ہو چکا ہے کہ وہ ظلمت عیسائیوں کی طرف سے ہوگی تو ایسا مامورمن اللہ بلا شبہ انھیں کی دعوت کے لئے اور اُنھیں کے فیصلہ کے لئے آئے گا۔پس اسی مناسبت سے اس کا نام عیسی رکھا گیا ہے۔کیونکہ وہ عیسائیوں کے لئے ایسا ہی بھیجا گیا جیسا کہ حضرت عیسی علیہ السلام ان کے لئے بھیجے گئے تھے اور آیت وَ اِذَا الرُّسُلُ أَقتَتْ میں الف لام عہد خارجی پر دلالت کرتا ہے یعنی وہ