تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 136
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۳۶ سورة الدهر پر خدا کی طرف سے رجعت پڑتی ہے وہ دنیا کی گرفتاریوں میں ایسے مبتلا رہتے ہیں کہ گویا پا بز نجیر ہیں۔اور زمینی کاموں میں ایسے نگونسار ہوتے ہیں کہ گویا ان کی گردن میں ایک طوق ہے جو ان کو آسمان کی طرف سر نہیں اٹھانے دیتا اور ان کے دلوں میں حرص و ہوا کی ایک سوزش لگی ہوئی ہوتی ہے کہ یہ مال حاصل ہو جائے اور یہ جائیدا دل جائے۔اور فلاں ملک ہمارے قبضہ میں آ جائے اور فلاں دشمن پر ہم فتح پا جائیں۔اس قدر روپیہ ہو۔اتنی دولت ہو۔سو چونکہ خدائے تعالیٰ ان کو نالائق دیکھتا ہے۔اور برے کاموں میں مشغول پاتا ہے اس لئے یہ تینوں بلائیں ان کو لگا دیتا ہے۔اور اس جگہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جب انسان سے کوئی فعل صادر ہوتا ہے تو اسی کے مطابق خدا بھی اپنی طرف سے ایک فعل صادر کرتا ہے مثلاً انسان جس وقت اپنی کوٹھڑی کے تمام دروازوں کو بند کر دے تو انسان کے اس فعل کے بعد خدا تعالیٰ کا یہ فعل ہوگا کہ وہ اس کو ٹھٹری میں اندھیرا پیدا کر دے گا۔کیونکہ جو امور خدا تعالیٰ کے قانون قدرت میں ہمارے کاموں کے لئے بطور ایک نتیجہ لازمی کے مقدر ہو چکے ہیں وہ سب خدا تعالیٰ کے فعل ہیں۔وجہ یہ کہ وہی علت العلل ہے۔ایسا ہی اگر مثلاً کوئی شخص زہر قاتل کھالے تو اس کے اس فعل کے بعد خدا تعالیٰ کا یہ فعل صادر ہوگا کہ اسے ہلاک کر دے گا۔ایسا ہی اگر کوئی ایسا بیجا فعل کرے جو کسی متعدی بیماری کا موجب ہو۔تو اس کے اس فعل کے بعد خدا تعالیٰ کا یہ فعل ہوگا کہ وہ متعدی بیماری اس کو پکڑلے گی۔پس جس طرح ہماری دنیوی زندگی میں صریح نظر آتا ہے کہ ہمارے ہر ایک فعل کے لئے ایک ضروری نتیجہ ہے اور وہ نتیجہ خدا تعالی کا فعل ہے۔ایسا ہی دین کے متعلق بھی یہی قانون ہے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۸۹،۳۸۸) ہم نے کافروں کے لئے جو ہماری محبت دل میں نہیں رکھتے اور دنیا کی طرف جھکے ہوئے ہیں۔زنجیر اور طوق گردن اور دل کے جلنے کے سامان تیار کر رکھے ہیں اور دنیا کی محبت کی اُن کے پیروں میں زنجیریں ہیں اور گردنوں میں ترک خدا کا ایک طوق ہے جس سے سر اٹھا کر اوپر کو نہیں دیکھ سکتے اور دنیا کی طرف جھکے جاتے ہیں۔اور دنیا کی خواہشوں کی ہر وقت ان کے دلوں میں ایک جلن ہے۔لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۵۸) کوئی یہ نہ کہے کہ کفار کے پاس بھی مال و دولت اور املاک ہوتے ہیں اور وہ اپنی عیش وعشرت میں منہمک اور مست رہتے ہیں۔میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ وہ دنیا کی آنکھ میں بلکہ ذلیل ذلیل دنیا داروں اور ظاہر پرستوں کی آنکھ میں خوش معلوم دیتے ہیں، مگر در حقیقت میں وہ ایک جلن اور دکھ میں مبتلا ہوتے ہیں۔تم نے ان کی