تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 137

۱۳۷ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الدهر صورت کو دیکھا ہے مگر میں ایسے لوگوں کے قلب پر نگاہ کرتا ہوں۔تو ایک سعیر اور سلاسل واغلال میں جکڑے ہوئے ہیں۔جیسے فرمایا ہے اِنَّا اَعْتَدْنَا لِلكَفِرِينَ سَلسلاً وَ اَهْلاً وَ سَعِيرًا وہ نیکی کی طرف آہی نہیں سکتے۔اور ایسے اغلال ہیں کہ خدا کی طرف ان اغلال کی وجہ سے ایسے دبے پڑے ہیں کہ حیوانوں اور بہائم سے بھی بدتر ہو جاتے ہیں۔ان کی آنکھ ہر وقت دنیا ہی کی طرف لگی رہتی ہے۔اور زمین کی طرف جھکتے جاتے ہیں۔پھر اندر ہی اندر ایک سوزش اور جلن بھی لگی ہوئی ہوتی ہے۔اگر مال میں کمی ہو جائے یا حسب مراد تد بیر میں کامیابی نہ ہو تو کڑھتے اور جلتے ہیں۔یہاں تک کے بعض اوقات سودائی اور پاگل ہو جاتے ہیں۔یا عدالتوں میں مارے مارے پھرتے ہیں۔یہ واقعی بات ہے کہ بے دین آدمی سعیر سے خالی نہیں ہوتا ، اس لئے کہ اس کو قرار اور سکون نصیب نہیں ہوتا ، جو راحت اور تسلی کا لازمی نتیجہ ہے۔جیسے شرابی ایک جام شراب پی کر ایک اور مانگتا ہے اور ایک جلن سی لگی رہتی ہے۔ایسا ہی دنیا دار بھی سعیر میں ہے۔اس کی آتش آز ایک دم بھی بجھ نہیں سکتی۔سچی خوشحالی حقیقت میں ایک متقی ہی کے لئے ہے۔جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ اس کے لئے دو جنت ہیں۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ / مارچ ۱۹۰۱ صفحه ۳) اِنَّ الْاَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِنْ كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورَانَ عَيْنَا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللهِ يُفَجَّرُونَهَا تَفْجِيران وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبّهِ مِسْكِينَا وَ يَتِيمَا وَ أَسِيرًا إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللهِ لا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاء وَ لَا شُكُورًا وَيُطَافُ عَلَيْهِمْ بِأَنِيَةٍ مِنْ فِضَّةٍ وَ اَلْوَابِ كَانَتْ قَوَارِيرَ القَوَارِيرَاً مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوهَا تَقْدِيرًا وَيُسْقَوْنَ فِيهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيلًا نَ عَيْنَا فِيهَا تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا وہ جو نیکو کار ہیں وہ اسی دنیا میں ایسا کا فوری شربت پی رہے ہیں جس نے ان کے دلوں میں سے دنیا کی محبت ٹھنڈی کر دی ہے اور دنیا طلبی کی پیاس بجھا دی ہے۔کا فوری شربت کا ایک چشمہ ہے جو ان کو عطا کیا جاتا ہے اور وہ اس چشمہ کو پھاڑ پھاڑ کر نہر کی صورت پر کر دیتے ہیں تا وہ نزدیک اور دُور کے پیاسوں کو اس میں