تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 90

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الجن دعوی کر دے کہ اس طور پر یہ پیشگوئی پوری ہوگی۔ہاں۔۔۔۔اس امر کا دعویٰ کرنا نبی کا حق ہے کہ وہ پیشگوئی جس کو وہ بیان کرتا ہے خارق عادت ہے یا انسانی علم سے وراء الوراء ہے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۵۳) علِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبة أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا رسول کا لفظ عام ہے جس میں رسول اور نبی اور محدث داخل ہیں۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۲۲) لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْيَةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ یعنی خدائے تعالیٰ کھلے کھلے طور پر کسی کو اپنے غیب پر بجز رسولوں کے یعنی بجز ان لوگوں کے جو وحی رسالت یا وحی ولایت کے ساتھ مامور ہوا کرتے ہیں اور منجانب اللہ سمجھے جاتے ہیں مطلع نہیں کرتا۔الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۱۹) مکذبین کے دلوں پر خدا کی لعنت ہے خدا ان کو نہ قرآن کا نور دکھلائے گا نہ بالمقابل دعا کی استجابت جو اعلام قبل از وقت کے ساتھ ہوا اور نہ امور غیبیہ پر اطلاع دے گا لا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُولٍ - انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۳۰۳ حاشیه ) کامل طور پر غیب کا بیان کرنا صرف رسولوں کا کام ہے دوسرے کو یہ مرتبہ عطا نہیں ہوتا۔رسولوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے جاتے ہوں خواہ وہ نبی ہوں یا رسول یا محدث اور مجد دہوں۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۴۱۹ حاشیه ) یہ آیت علم غیب صحیح اور صاف کا رسولوں پر حصر کرتی ہے۔تحفہ گولڑ و سیه روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۳۵ حاشیه ) استجابت دعا کے ساتھ اگر حسب مراد کوئی امر غیب خدا تعالی کسی پر ظاہر کرے اور وہ پورا ہو جائے تو بلا شبہ اس کی قبولیت پر ایک دلیل ہوگی اور یہ کہنا کہ نجومی یا رتال اس میں شریک ہیں یہ سراسر خیانت اور مخالف تعلیم قرآن ہے کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے لا يُظهِرُ عَلَى غَيْبة أَحَدًا - إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ - ( نشان آسمانی، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۹۴)