تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 91

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۱ سورة الجن کرتا۔خدا تعالیٰ بجز ان لوگوں کے جن کو وہ ہدایت خلق کے لیے بھیجتا ہے کسی دوسرے کو اپنے غیب پر مطلع نہیں ( نشانی آسمانی، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۹۴ حاشیه ) غیب کو چنے ہوئے فرستادوں کے سوا کسی پر نہیں کھولا جاتا۔(سراج منیر، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۲۰) آيت لا يُظهِرُ عَلى غَيْبة احدا نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ۔۔۔کھلی کھلی پیشگوئی صرف خدا کے مرسلوں کو دی جاتی ہے نہ منجموں سے ہو سکتی ہے نہ دجالوں سے۔(حجۃ اللہ ، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۱۵۴) قرآن شریف بجز نبی بلکہ رسول ہونے کے دوسروں پر علوم غیب کا دروازہ بند کرتا ہے جیسا کہ آیت لا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضى مِنْ رَّسُولٍ سے ظاہر ہے۔پس مصفی غیب پانے کے لئے نبی ہونا غلطی کا ازالہ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۰۹ حاشیه ) ضروری ہوا۔صاف اور صریح غیب محض برگزیدہ رسولوں کو دیا جاتا ہے۔کچی پیشگوئی بجز سچے رسول کے کس کی طرف منسوب ہوسکتی ہے؟ (نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۱۴) کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۶۳ ) اللہ تعالیٰ کے غیب کا کسی پر ظہور نہیں ہوتا مگر اللہ تعالی کے برگزیدہ رسولوں پر ہوتا ہے۔لیکچر لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۵۷) کھلا کھلا غیب صرف برگزیدہ رسول کو عطا کیا جاتا ہے غیر کو اس میں حصہ نہیں۔تجلیات الهیه، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۹۸) ہر ایک مومن پر غیب کامل کے امور ظاہر نہیں کئے جاتے بلکہ محض ان بندوں پر جو اصطفاء اور اجتباء کا مرتبہ رکھتے ہیں ظاہر ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبة اَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولِ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے غیب پر کسی کو غالب ہونے نہیں دیتا مگر ان لوگوں کو جو اس کے رسول اور اس کی درگاہ کے پسندیدہ ہوں۔براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۸۶) کھلی کھلی غیب کی بات بتلانا بجز نبی کے اور کسی کا کام نہیں ہے۔اللہ تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے لا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبَةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولِ یعنی خدا اپنے غیب پر بجز برگزیدہ رسولوں کے کسی کو مطلع (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۰۴) نہیں فرماتا۔