تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 89

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۹ سورة الجن قدرت رکھا ہے کہ عناصر اور شمس و قمر اور تمام ستاروں کو اس خدمت میں لگا دیا ہے کہ وہ ہمارے اجسام اور قومی کو مدد پہنچا کر ان سے بوجہ احسن ان کے تمام کام صادر کرا دیں اور ہم ان صداقتوں کے ماننے سے کسی طرف بھاگ نہیں سکتے کہ مثلاً ہماری آنکھ اپنی ذاتی روشنی سے کسی کام کو بھی انجام نہیں دے سکتی جب تک آفتاب کی روشنی اس کے ساتھ شامل نہ ہو اور ہمارے کان محض اپنی قوت شنوائی سے کچھ بھی سن نہیں سکتے جب تک کہ ہوا متکیف بصوت ان کی ممد و معاون نہ ہو۔پس کیا اس سے یہ ثابت نہیں کہ خدا تعالیٰ کے قانون نے ہمارے قومی کی تکمیل اسباب خارجیہ میں رکھی ہے اور ہماری فطرت ایسی نہیں ہے کہ اسباب خارجیہ کی مدد سے مستغنی ہوا گرغور سے دیکھو تو نہ صرف ایک دو بات میں بلکہ ہم اپنے تمام حواس تمام قومی تمام طاقتوں کی تکمیل کے لئے خارجی امدادات کے محتاج ہیں پھر جب کہ یہ قانون اور انتظام خدائے واحد لاشریک کا جس کے کاموں میں وحدت اور تناسب ہے ہمارے خارجی قومی اور حواس اور اغراض جسمانی کی نسبت نہایت شدت اور استحکام اور کمال التزام سے پایا جاتا ہے تو پھر کیا یہ بات ضروری اور لازمی نہیں کہ ہماری روحانی تکمیل اور روحانی اغراض کے لیے بھی یہی انتظام ہوتا دونوں انتظام ایک ہی طرز پر واقع ہو کر صانع واحد پر دلالت کریں اور خود ظاہر ہے کہ جس حکیم مطلق نے ظاہری انتظام کی یہ بنا ڈالی ہے اور اسی کو پسند کیا ہے کہ اجرام سماوی اور عناصر وغیرہ اسباب خارجیہ کے اثر سے ہمارے ظاہر اجسام اور قومی اور حواس کی تکمیل ہو اس حکیم قادر نے ہمارے روحانیت کے لیے بھی یہی انتظام پسند کیا ہوگا کیونکہ وہ واحد لاشریک ہے اور اس کی حکمتوں اور کاموں میں وحدت اور تناسب ہے اور دلائل الیہ بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں۔سو وہ اشیاء خارجیہ جو ہماری روحانیت پر اثر ڈال کر شمس اور قمر اور عناصر کی طرح جو اغراض جسمانی کے لیے ممد ہیں ہماری اغراض روحانی کو پورا کرتی ہیں انہیں کا نام ہم ملائک رکھتے ہیں۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۰۳ تا ۱۳۵ حاشیه ) قُلْ اِنْ اَدْرِى اَقَرِيبٌ مَا تُوعَدُونَ أَمْ يَجْعَلُ لَهُ رَبِّي أَمَدًان یعنی ان کو کہہ دے کہ میں نہیں جانتا کہ عذاب قریب ہے یا دُور ہے۔اب اے سننے والو! یا د رکھو کہ یہ بات سچ ہے اور بالکل سچ ہے اور اس کے ماننے کے بغیر چارہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئیاں کبھی ظاہر پر پوری ہوتی ہیں اور کبھی استعارہ کے رنگ میں۔پس کسی نبی یا رسول کو یہ حوصلہ نہیں کہ ہر جگہ اور ہر پیشگوئی میں یہ