تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 58
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۸ سورة الزمر إِلَّا وَعْدًا وَاحِدًا وَهُوَ الَّذِي يَظْهَرُ عِنْدَ ایک ہی وعدہ کیا ہے اور وہ وہی وعدہ ہے جس کا ظہور قیامت يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَأَخْبَرَ عَنْ عَدُم رُجُوع کے روز ہوگا، اور اس نے قیامت سے قبل مردوں کے واپس الْمَوْلى قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فتخن نہ آنے کی خبر ہمیں دی ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے نُؤْمِنُ مَا أَخْبَرَ وَنُنَزِّهُ الْقُرْآنَ عَنِ فیصلہ پر ایمان رکھتے ہیں اور ہم قرآن کریم کو اختلافات اور الاخْتِلَافاتِ وَالتَّناقُضَاتِ، وَنُؤْمِن تناقضات سے پاک سمجھتے ہیں اور ہم اس آیت پر ایمان بايَةِ فَيُمْسِكُ التي قطى عَلَيْهَا لاتے ہیں کہ فيُسِتُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا المَوْتَ ( يعنى جس نفس پر اللہ موت کا حکم دے دیتا ہے اس کو واپس آنے الموت (حمامة البشری ،جلد ۷ صفحہ ۲۴۹،۲۴۸) | نہیں دیتا ) (ترجمه از مرتب) قرآن شریف کے رُو سے مُردہ کا زندہ ہو کر دُنیا میں آکر آباد ہونا بالکل ممتنع ہے اور آیت فيُمسك انتى قضى عَلَيْهَا المَوت اس دوبارہ رُوح کے آنے سے مانع ہے۔(کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۲۳۹ حاشیه ) ہم بموجب نص صریح قرآن شریف کے جو آيت فيمسك التى قضى عَلَيْهَا الْمَوْتَ سے ظاہر ہوتی ہے اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ جو لوگ اس دُنیا سے گزر جاتے ہیں پھر وہ دُنیا میں دوبارہ آباد ہونے کے لئے نہیں بھیجے جاتے۔اس لئے خدا نے بھی اُن کے لئے قرآن شریف میں مسائل نہیں لکھے کہ دوبارہ آکر مال تقسیم شدہ ان کا کیوں کر ان کو ملے۔ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۲۴) جو شخص حقیقی طور پر مر جاتا ہے اور اس دُنیا سے گزرجاتا ہے اور ملک الموت اس کی روح کو قبض کر لیتا ہے 991 وہ ہر گز واپس نہیں آتا۔دیکھو اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے فَيُمْسِكُ التِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ - (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۴۲) خدا جانوں کو جب اُن کی موت کا وقت آتا ہے اپنے قبضہ میں کر لیتا ہے یعنی وہ جانیں بے خود ہو کر الہی تصرف اور قبضہ میں اپنی موت کے وقت آجاتی ہیں اور زندگی کی خود اختیاری اور خود شناسی اُن سے جاتی رہتی ہے اور موت ان پر وارد ہو جاتی ہے یعنی بگی وہ روحیں نیست کی طرح ہو جاتی ہیں اور صفات حیات زائل ہو جاتی ہیں اور ایسی روح جو دراصل مرتی نہیں مگر مرنے کے مشابہ ہوتی ہے وہ روح کی وہ حالت ہے کہ جب انسان سوتا ہے تب وہ حالت پیدا ہوتی ہے اور ایسی حالت میں بھی روح خدا تعالیٰ کے قبضہ اور تصرف میں