تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 59
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۹ سورة الزمر۔آجاتی ہے اور ایسا تغییر اس پر وارد ہو جاتا ہے کہ کچھ بھی اس کی دنیوی شعور اور ادراک کی حالت اس کے اندر باقی نہیں رہتی۔غرض موت اور خواب دونوں حالتوں میں خدا کا قبضہ اور تصرف رُوح پر ایسا ہو جاتا ہے کہ زندگی کی علامت جو خود اختیاری اور خود شناسی ہے بکلی جاتی رہتی ہے پھر خدا ایسی روح کو جس پر در حقیقت موت وارد کر دی ہے واپس جانے سے روک رکھتا ہے اور وہ رُوح جس پر اس نے در حقیقت موت وارد نہیں کی اس کو پھر ایک مقرر وقت تک دُنیا کی طرف واپس کر دیتا ہے۔اس ہمارے کاروبار میں اُن لوگوں کے لئے نشان ہیں جو فکر اور سوچ کرنے والے ہیں۔یہ ہے ترجمہ معہ شرح آیت ممدوحہ بالا کا۔اور یہ آیت موصوفہ بالا دلالت کر رہی ہے کہ جیسی جسم پر موت ہے روحوں پر بھی موت ہے لیکن قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ ابرار اور اخیار اور برگزیدوں کی روحیں چند روز کے بعد پھر زندہ کی جاتی ہیں۔کوئی تین دن کے بعد کوئی ہفتہ کے بعد کوئی چالیس دن کے بعد۔اور یہ حیات ثانی نہایت آرام اور آسائش اور لذت کی اُن کو ملتی ہے۔یہی حیات ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے نیک بندے اپنی پوری قوت اور پوری کوشش اور پورے صدق وصفا کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف جھکتے ہیں اور نفسانی تاریکیوں سے باہر آنے کے لئے پورا زور لگاتے ہیں اور خدا کی رضا جوئی کے لئے تلخ زندگی اختیار کرتے ہیں گو یا مر ہی جاتے ہیں۔غرض جیسا کہ آیتہ موصوفہ بالا بیان فرما رہی ہے رُوح کو بھی موت ہے جیسا کہ جسم کو اگر چہ اس عالم کی نہایت مخفی کیفیتیں اس تاریک دنیا میں ظاہر نہیں ہوتیں لیکن بلاشبہ عالم رؤیا یعنی خواب کا عالم اُس عالم کے لئے ایک نمونہ ہے اور جو موت اس عالم میں رُوح پر وارد ہوتی ہے اس موت کا نمونہ عالم خواب میں بھی پایا جاتا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ معاً آنکھ بند ہونے کے ساتھ ہی ہماری رُوح کی تمام صفات اُلٹ پلٹ ہو جاتی ہیں اور اس بیداری کا تمام سلسلہ فراموش ہو جاتا ہے اور تمام رُوحانی صفات اور تمام علوم جو ہماری روح میں تھے کالعدم ہو جاتے ہیں اور حالت خواب میں وہ نظارے رُوح کے ہمارے پیش نظر آجاتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اب وہ ہماری رُوح کچھ اور ہی ہے اور تمام صفات اس کے جو بیداری میں تھے کھوئے گئے ہیں اور یہ ایک ایسی حالت ہے جو موت سے مشابہ بلکہ ایک قسم کی موت ہے اور یہ قطعی اور یقینی دلیل اس بات پر ہے کہ وہ موت جو جسم کی موت کے ساتھ روح پر وارد ہوتی ہے وہ ایسی موت کے ساتھ مشابہ ہے جو نیند کی حالت میں روح پر وارد ہوتی ہے مگر وہ موت اس موت کی نسبت بہت بھاری ہے۔چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۶۲ تا ۱۶۴)