تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 57

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۷ سورة الزمر إِلَى الدُّنْيَا بِجَمِيعِ شَهَوَاتِهَا وَلَوَازِمِهَا، تمام شہوات اور ان کے لوازم اور اچھے اور بُرے اعمال وَمَعَ كَسْبِ الْأَعْمَالِ مِنْ خَيْرٍ وَشَرِ، وَمَعَ کرنے اور اپنے اعمال پر اجر کے استحقاق کے ساتھ اسْتِحْقَاقِ الْأَجْرِ عَلَى مَا كَسَبُوا، وَمَعَ واپس آنا ہے اور اس کے ساتھ ہی میں رجوع موتی سے ذلِكَ أَغْنِى مِنَ الرُّجُوعِ الْحَقِيقِي لحوق یہ مراد بھی لیتا ہوں کہ وہ واپس آکر ان لوگوں سے ملیں الْمَوْلى بِالَّذِينَ فَارَقُوهُمْ مِنَ الْآبَاءِ جن سے وہ جُدا ہوئے یعنی اپنے باپوں اور بیٹیوں سے نیز وَالْأَبْنَاءِ وَالْإِخْوَانِ وَالأَزْوَاجِ وَالْعَشِيرَةِ اپنے بھائیوں، بیویوں یا خاوندوں اور اپنے قبیلہ کے الذين هُم مَوْجُودُونَ فِي الدُّنْيَا وَكَذلِك دوسرے لوگوں سے جو اس دُنیا میں موجود ہیں، اسی طرح رُجُوعُهُمْ إِلَى أَمْوَالِهِمُ الَّتی كَانُوا وہ دوبارہ اپنے ان اموال پر قبضہ کریں جو انہوں نے اقْتَرَفُواهَا، وَمَسَاكِيهِمُ الَّتى كَانُوا بَنَوْهَا، کمائے اور اپنے ان گھروں پر قبضہ کریں جن کو انہوں نے وَزُرُوعِهِمُ الَّتِي كَانُوا زَرَعُوهَا، وَخَزَائِهِيمُ بنایا تھا اور اپنے ان کھیتوں پر قبضہ کریں جو انہوں نے الَّتى كَانُوا جَمَعُوْهَا ثُمَّ مِنْ شَرَائِط ہوئے۔اور اپنے ان خزانوں کو لے لیں جو انہوں نے جمع الرُّجُوعِ الْحَقِيقِي أَن يَعِيْشُوا فِي الدُّنْيَا کئے۔پھر رجوع حقیقی کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ وہ كَمَا كَانُوا يَعِيُمُونَ مِن قَبْلُ وَيَتَزَوِّجُوْا دُنیا میں ویسے ہی زندگی بسر کریں جیسے پہلے کرتے تھے۔إِن كَانُوا إِلَى النِّكَاحِ مُحْتَاجِینَ، وَآن اگر وہ شادی کی ضرورت محسوس کریں تو شادی بھی کریں تُؤْمِنُوا بِاللهِ وَرَسُوْلِهِ فَيُقْبَل إيْمَانُهُمْ اور یہ کہ اگر وہ اللہ اور رسول پر ایمان لائیں تو ان کا ایمان وَلَا يُنظَرُ إِلى كُفْرِهِمُ الَّذِى مَاتُوا عَلَيْهِ قبول کیا جائے اور ان کے اس کفر کا خیال نہ کیا جائے جس بَلْ يَنْفَعُهُمْ إِيْمَانَهُمْ بَعْدَ رَجُوْعِهِمْ إِلَى پر وہ مرے تھے بلکہ دنیا میں واپس آنے کے بعد ان کا الدُّنْيَا وَكَويهم مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّاً ایمان لانا اور مومنوں میں شامل ہونا ان کو فائدہ دے۔لا تَجِدُ فِي الْقُرْآنِ شَيْئًا مِنْ هذِهِ لیکن ہم قرآن مجید میں ان وعدوں میں سے کسی کا ذکر الْمَوَاعِيْدِ، وَلاسُوْرَةٌ ذُكِرَتْ فيها هذه نہیں پاتے اور نہ کوئی سورت قرآن کریم کی ایسی پاتے الْمَسَائِلُ، بَلْ نَجِدُ مَا يُخَالِفُهُ ہیں جس میں ان مسائل کا ذکر ہو بلکہ ان امور کے خلاف (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلد کے صفحہ ۲۴۷) ہی ذکر دیکھتے ہیں۔(ترجمہ از مرتب) إنَّ اللَّهَ مَا وَعَدَ بِحَشْرِ الْمَوْتَى فِي الْقُرْآنِ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مردوں کے حشر کا