تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 51
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۱ سورة الزمر الَّذِى ذَكَرْنَاهُ هُنَا فَتَدَبَّرُوا في قَوْلِنَا وَ ہے۔پس تم ہمارے قول میں تدیر کرو اور گہری نظر أَمْعِنُوا نظرًا وَ مَا يَنْبَغِى أَن يَكُونَ ڈالو۔یہ نہیں ہوسکتا کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں اخْتِلَافًا في كَلامِ اللهِ تَعَالى وَلَن تَجِدُوا في اختلاف ہو اور اس کے معارف میں تم ہرگز کوئی مَعَارِفِهِ تَناقُضًا۔تناقض نہیں پاؤ گے۔( ترجمہ از مرتب ) آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۴۲،۴۴۱) خدا نے تم لوگوں کو ایک وجود سے پیدا کیا۔پھر اُسی وجود سے اُس کا جوڑا بنایا۔۔۔۔۔۔وہی تم کو تین اندھیروں میں تمہاری ماؤں کے پیٹ میں پیدا کرتا ہے۔ایک قسم کی پیدائش کے بعد دوسری پیدائش سواس آیت میں تو کہیں پسلی اور ہڈی وغیرہ کا ذکر نہیں۔صرف اسی قدر لکھا ہے کہ ایک انسان سے دوسرے انسان کو پیدا کیا۔ہاں یہ ذکر پایا جاتا ہے کہ خدا نے اپنا پہلا قانون بدلا دیا کیونکہ پہلے انسان نطفہ سے پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ ایک وجود سے دوسرا وجود پیدا کیا گیا تھا تا نوعیت میں فرق نہ آوے اور پھر بعد میں یہ دوسرا قانون قدرت شروع ہوا کہ انسان نطفہ سے پیدا ہونے لگے اور یہ محل اعتراض نہیں کہ خدا نے پہلا قانون قدرت کیوں منسوخ کر دیا۔کیونکہ خدا اپنے قانون کو اس لئے منسوخ کرتا ہے کہ تا اُس کی انواع و اقسام کی قدرتیں ظاہر ہوں۔ممدوحہ بالا آیت کے ایک یہ بھی معنے ہیں کہ کئی قسم کی پیدائش کے بعد رحم کے اندر پورا انسان بنتا ہے اور تین اندھیر میں اس کی پیدائش ہوتی ہے (۱) پیٹ (۲) جم (۳) جھلی جس کے اندر بچہ پیدا ہوتا ہے۔اور یادر ہے کہ پہلی اور ہڈی سے خدا کی کتابوں میں قریبی رشتہ بھی مراد لئے گئے ہیں جس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ آدم اور حوا کا رشتہ نہایت قریب تھا مگر چونکہ ہم خدا تعالیٰ کو ہر ایک چیز پر قادر سمجھتے ہیں اس لئے ہم اس امر کو بھی کچھ بعید نہیں سمجھتے کہ حوا آدم کی پہلی سے یا آدم حوا کی پہلی سے پیدا ہو گیا ہو۔خدا کا کلام اس جگہ نہایت وسیع معنوں پر مشتمل ہے آیت کے معنے وسیع طور پر یہ ہیں کہ ایک سے ہم نے دوسرے کو پیدا کیا۔اگر کسی کو یہ اعتراض ہو کہ پہلی سے پیدا کرنا قانون قدرت کے خلاف ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ نطفہ سے پیدا ہونا بھی اُس قانون قدرت کے برخلاف ہے جو بموجب اصول آریہ کے پہلے ظہور میں آیا۔پس جس نے ایک قانون قدرت بدلا کر دوسرا قانون قدرت پیدائش کے لئے مقرر کیا تو پھر کیا اُس کی شان سے کچھ تعجب کی جگہ ہے کہ جس طرح اُس نے بموجب اصول آریہ کے پہلی پیدائش میں کھمبوں کی طرح انسانوں کو پیدا کیا