تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 50
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الزمر جسم سے بروقت طیاری جسم اس کے کے لازم وملزوم ہے۔پس ثابت ہوا کہ فعل خدائے تعالیٰ کا بطور قدرت تامہ کے ضروری ہے اور نیز اس دلیل سے ضرورت قدرت تامہ کی خدائے تعالیٰ کے لئے واجب ٹھہرتی ہے کہ بموجب اصول مقررہ فلسفہ کے ہم کو اختیار ہے کہ یہ فرض کریں کہ مثلاً ایک مدت تک تمام ارواح موجودہ ابدان متناسبہ اپنے سے متعلق ہیں۔پس جب ہم نے یہ امر فرض کیا تو یہ فرض ہمارا اس دوسرے فرض کو بھی مستلزم ہوگا کہ اب تا انقضائے اس مدت کے ان جنینوں میں جو رحموں میں طیار ہوئے ہیں کوئی روح داخل نہیں ہوگا۔حالانکہ جنیوں کا بغیر تعلق روح کے معطل پڑے رہنا بہ ہداہت عقل باطل ہے۔پس جو امر مستلزم باطل ہے وہ بھی باطل۔پس ثبوت متقدمین سے یہ نتیجہ ثابت ہو گیا کہ خدائے تعالیٰ کے لئے صفت ربوبیت تامہ کی ضروری ہے اور یہی مطلب تھا۔پرانی تحریریں، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۳ تا ۱۶) وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ الْأَنْعَامِ۔۔۔اور تمہارے لئے چار پائے اُتارے۔۔۔۔ظاہر ہے کہ اُترنے کا لفظ آسمان سے اتر نے پر ہرگز دلالت نہیں کرتا اور اترنے کے ساتھ آسمان کا لفظ زیادہ کر لینا ایسا ہے جیسا کسی بھوکے سے پوچھا جائے کہ دو اور دو کتنے ہوتے ہیں تو وہ جواب دے چار روٹیاں۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۴۵ حاشیه ) فَانظُرُوا إِلَى الْقُرْآنِ الْكَرِيمِ كَيْفَ تم قرآن کریم پر غور کرو اور دیکھو کہ کس يُبَيِّنُ مَعْنَى النُّزُولِ فِي آيَاتِهِ الْعُظمى طرح وہ اپنی جلیل القدر آیات میں لفظ نزول کے وَتَدَبَّرُوا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ وَفي معنے بیان کرتا ہے اور تم اللہ کے قول وَ اَنْزَلْنَا قَوْلِهِ عَزَّ اسْمُهُ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا وَفِي الْحَدِيدَ اور قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا اور وَانْزَلَ قَوْلِهِ جَلَّ شَأْنُهُ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ الْأَنْعَامِ تَكُمْ مِنَ الْأَنْعَام پر غور کرو۔۔تم جانتے ہو کہ یہ۔۔۔۔۔وَ أَنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ هَذِهِ الْأَشْيَاءَ لَا چیزیں آسمان سے نہیں اتریں بلکہ زمین میں سے تَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ بَلْ تَحْدُثُ وَ تَتَوَلَّد في ظاہر ہوتی اور اس میں سے پیدا ہوتی ہیں اور اگر تم الْأَرْضِ وَفِي طَبْقَاتِ الثَّرَى وَإِنْ أَمَعَنَتُمُ الله تعالیٰ کی کتاب کو نظر غور دیکھو تو تم پر یہ بات النظر في كِتَابِ اللهِ تَعَالَى فَيَكْشِفُ عَلَيْكُمْ واضح ہو جائے گی کہ نزول مسیح کی حقیقت بھی انہی أَنَّ حَقِيقَةً نُزُولِ الْمَسِيحِ مِنْ هَذِهِ الْأَقْسَامِ قسموں میں سے ہے جن کا ہم نے یہاں ذکر کیا الحديد : ٢٦ الاعراف: ۲۷