تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 49
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۹ سورة الزمر نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے لئے صفت ربوبیت تامہ کی بھی ضروری ہے۔ثبوت صغریٰ کا یعنی اس بات کا کہ جس صانع کے لئے قدرت تامہ ضروری ہے اس کے لئے صفت ربوبیت تامہ کی بھی ضروری ہے اس طرح پر ہے کہ عقل اس بات کی ضرورت کو واجب ٹھہراتی ہے کہ جب کوئی ایسا صانع کہ جس کی نسبت ہم تسلیم کر چکے ہیں کہ اس کو اپنی کسی صنعت کے بنانے میں حرج واقع نہیں ہوتا کسی چیز کا بنانا شروع کرے تو سب اسباب تکمیل صنعت کے اس کے پاس موجود ہونے چاہئیں اور ہر وقت اور ہر تعداد تک میسر کرنا ان چیزوں کا جو وجود مصنوع کے لئے ضروری ہیں اس کے اختیار میں ہونا چاہئے۔اور ایسا اختیار تام بجز اس صورت کے اور کسی صورت میں مکمل نہیں کہ صانع اس مصنوع کا اس کے اجزا پیدا کرنے پر قادر ہو کیونکہ ہر وقت اور ہر تعداد تک ان چیزوں کا میسر ہو جانا کہ جن کا موجود کرنا صانع کے اختیار تام میں نہیں عند العقل ممكن التخلف ہے اور عدم تخلف پر کوئی برہان فلسفی قائم نہیں ہوتی اور اگر ہوسکتی ہے تو کوئی صاحب پیش کرے۔وجہ اس کی ظاہر ہے کہ مفہوم اس عبارت کا کہ فلاں امر کا کرنا زید کے اختیار تام میں نہیں اس عبارت کے مفہوم سے مساوی ہے کہ ممکن ہے کہ کسی وقت وہ کام زید سے نہ ہو سکے پس ثابت ہوا کہ صانع تام کا بجز اس کے ہر گز کام نہیں چل سکتا کہ جب تک اس کی قدرت بھی تام نہ ہواسی واسطے کوئی مخلوق اہل حرفہ میں سے اپنے حرفہ میں صانع تام ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا بلکہ کل اہل صنائع کا دستور ہے کہ جب کوئی بار بار ان کی دکان پر جا کر ان کو دق کرے کہ فلاں چیز ابھی مجھے بنادو تو آخر اس کے تقاضے سے تنگ آکر اکثر بول اٹھتے ہیں کہ ”میاں میں کچھ خدا نہیں ہوں کہ صرف حکم سے کام کر دوں فلاں فلاں چیز ملے گی تو پھر بنادوں گا۔“ غرض سب جانتے ہیں کہ صانع تمام کے لئے قدرت تام اور ربوبیت شرط ہے۔یہ بات نہیں کہ جب تک زید نہ مرلے بکر کے گھر لڑکا پیدا نہ ہو۔یا جب تک خالد فوت نہ ہو ولید کے قالب میں جو ابھی پیٹ میں ہے بکر کے گھرلڑ نہ یا نہ میں جان نہ پڑ سکے پس بالضرورت صغری ثابت ہوا۔اور کبری شکل کا یعنی یہ کہ خدا مخلوقات کے پیدا کرنے میں بطور قدرت تامہ کے ضروری ہے خود ثبوت صغری سے ثابت ہوتا ہے اور نیز ظاہر ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ میں قدرت ضرور یہ تامہ نہ ہو تو پھر قدرت اس کی بعض اتفاقی امور کے حصول پر موقوف ہوگی اور جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں عقل تجویز کر سکتی ہے کہ اتفاقی امور وقت پر خدائے تعالیٰ کو میسر نہ ہو سکیں کیونکہ وہ اتفاقی ہیں۔ضروری نہیں۔حالانکہ تعلق پکڑ نا روح کا جنین کے