تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 48

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۸ سورة الزمر ثلث ذلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ لَا إِلَهَ إِلا هُوَ فَانّى تُصْرَفُونَ ) فرقان مجید میں خالقیت باری تعالی پر بمادہ قیاس استثنائی قائم کی گئی ہے اور قیاس استثنائی اس قیاس کو کہتے ہیں کہ جس میں میں نتیجہ یا نقیض اس کی بالفعل موجود ہو اور دو مقدموں سے مرکب ہو یعنی ایک شرطیہ اور روو دوسرے وضعیہ سے چنانچہ آیت شریف جو اس قیاس پر ضمن ہے یہ ہے دیکھو سورہ۔يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ۔أمَّهَتِكُمْ خَلْقًا مِنْ بَعْدِ خَلق في ظُلمت ثَلث ذيكُمُ اللهُ رَبِّكُمْ یعنی وہ تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں - میں تین اندھیرے پردوں میں پیدا کرتا ہے اس حکمت کا ملہ سے کہ ایک پیدائش اور قسم کی اور ایک اور قسم کی بناتا ہے یعنی ہر عضو کو صورت مختلف اور خاصیتیں اور طاقتیں الگ الگ بخشتا ہے۔یہاں تک کہ قالب بے جان میں جان ڈال دیتا ہے نہ اس کو اندھیرا کام کرنے سے روکتا ہے اور نہ مختلف قسموں اور خاصیتوں کے اعضا بنانا اس پر مشکل ہوتا ہے اور نہ سلسلہ پیدائش کے ہمیشہ جاری رکھنے میں اس کو کچھ دقت اور حرج واقع ہوتا ہے۔ذلِكُمُ اللهُ رَبِّكُم وہی جو ہمیشہ اس سلسلہ قدرت کو بر پا اور قائم رکھتا ہے وہی تمہارا رب ہے یعنی اسی قدرت تامہ سے اس کی ربوبیت تامہ جو عدم سے وجود اور وجود سے کمال وجود بخشنے کو کہتے ہیں ثابت ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ ربّ الاشیاء نہ ہوتا اور اپنی ذات میں ربوبیت تامہ نہ رکھتا اور صرف مثل ایک بڑھئی یا کاریگر کے ادھر اُدھر سے لے کر گزارہ کرتا تو اس کو قدرت تام ہرگز حاصل نہ ہوتی اور ہمیشہ اور ہر وقت کامیاب نہ ہوسکتا بلکہ کبھی نہ کبھی ضرور ٹوٹ آجاتی اور پیدا کرنے سے عاجز رہ جاتا۔خلاصہ آیت کا یہ کہ جس شخص کا فعل ربوبیت تامہ سے نہ ہو یعنی از خود پیدا کنندہ نہ ہو اس کو قدرت تامہ بھی حاصل نہیں ہو سکتی لیکن خدا کو قدرت تامہ حاصل ہے کیونکہ قسم قسم کی پیدائش بنانا اور ایک بعد دوسرے کے بلا تخلف ظہور میں لانا اور کام کو ہمیشہ برابر چلانا قدرت تامہ کی کامل نشانی ہے۔پس اس سے ثابت ہوا کہ خدائے تعالی کو ربوبیت تامہ حاصل ہے اور در حقیقت وہ رب الا شیاء ہے نہ صرف بڑھئی اور معمار اشیاء کا اور نہ ممکن نہ تھا کہ کارخانہ دنیا کا ہمیشہ بلا حرج چلتا رہتا بلکہ دنیا اور اس کے کارخانہ کا کبھی کا خاتمہ ہو جاتا کیونکہ جس کا فعل اختیار تام سے نہیں وہ ہمیشہ اور ہر وقت اور ہر تعداد پر ہرگز قادر نہیں ہو سکتا۔اور شکل اس قیاس کی جو آیت شریف میں درج ہے بقاعدہ منطقیہ اس طرح پر ہے کہ جس شخص کا فعل کسی وجود کے پیدا کرنے میں بطور قدرت تامہ ضروری ہو۔اس کے لئے صفت ربوبیت تامہ کی یعنی عدم سے ہست کرنا بھی ضروری ہے لیکن خدا کا فعل مخلوقات کے پیدا کرنے میں بطور قدرت تامہ ضروری ہے۔پس