تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 436
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۶ سورة الجمعة اجتہاد کے محتاج نہیں وجہ یہ کہ پہلے گروہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے جو خدا سے براہ راست ہدایت پا کر وہی ہدایت نبوت کی پاک توجہ کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے دل میں ڈالتے تھے اور ان کے لئے مربی بے واسطہ تھے۔اور دوسرے گروہ میں مسیح موعود ہے جو خدا سے الہام پا تا اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت سے فیض اٹھاتا ہے لہذا اس کی جماعت بھی اجتہاد خشک کی محتاج نہیں ہے۔جیسا کہ آیت وَ آخَرِينَ مِنْهُم لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ سے سمجھا جاتا ہے۔(تحفہ گولز و یه روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۲۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعث اوّل کا زمانہ ہزار پنجم تھا جو سم محمد کا مظہر تجلی تھا یعنی یہ بعث اول جلالی نشان ظاہر کرنے کے لئے تھا مگر بعث دوم جس کی طرف آیت کریمہ و اخريْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ میں اشارہ ہے وہ مظہر تجلی اسم احمد ہے جو اسم جمالی ہے۔تحفه گوار و یه روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۵۳) چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حسب آیت وَ آخَرِينَ مِنْهُم دوبارہ تشریف لا نا بجز صورت بروز غیر ممکن تھا اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے ایک ایسے شخص کو اپنے لئے منتخب کیا جو لق اور خُو اور ہمت اور ہمدردی خلائق میں اس کے مشابہ تھا اور مجازی طور پر اپنا نام احمد اور محمد اس کو عطا کیا تا یہ سمجھا جائے کہ گویا اس کا ظہور بعینہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور تھا۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۶۳) چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوسرا فرض منصبی جو تکمیل اشاعت ہدایت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بوجہ عدم وسائل اشاعت غیر ممکن تھا اس لئے قرآن شریف کی آیت وَ اخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ثانی کا وعدہ دیا گیا ہے۔اس وعدہ کی ضرورت اسی وجہ سے پیدا ہوئی کہ تا دوسرا فرض منصبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یعنی تکمیل اشاعت ہدایت دین جو آپ کے ہاتھ سے پورا ہونا چاہئے تھا اُس وقت بباعث عدم وسائل پورا نہیں ہوا سو اس فرض کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آمد ثانی سے جو بروزی رنگ میں تھی ایسے زمانہ میں پورا کیا جبکہ زمین کی تمام قوموں تک اسلام پہنچانے کے لئے وسائل پیدا ہو گئے تھے۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۶۳ حاشیه ) یادر ہے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ کے دو ہاتھ جلالی و جمالی ہیں اسی نمونہ پر چونکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ جل شانہ کے مظہر اتم ہیں لہذا خدا تعالیٰ نے آپ کو بھی وہ دونوں ہاتھ رحمت اور شوکت کے عطا فرمائے۔۔