تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 437
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۷ سورة الجمعة جمالی ہاتھ کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے کہ قرآن شریف میں ہے وَ مَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً العلمين (الانبياء : ١٠٨) یعنی ہم نے تمام دنیا پر رحمت کر کے مجھے بھیجا ہے اور جلالی ہاتھ کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَى (الانفال: ۱۸) اور چونکہ خدا تعالیٰ کو منہ تھا کہ یہ دونوں صفتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے اپنے وقتوں میں ظہور پذیر ہوں اس لئے خدا تعالیٰ نے صفت جلالی کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے ذریعہ سے ظاہر فرمایا اور صفت جمالی کو مسیح موعود اور اس کے گروہ کے ذریعہ سے کمال تک پہنچایا۔اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔(اربعین، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۱ ۴ حاشیه ) قَالَ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس آیت میں مسیح موعود اور اس کی فَاشَارٌ إِلَى الْمَسِيحِ الْمَوْعُوْدِ وَ جَمَاعَتِه جماعت کی طرف اشارہ ہے نیز ان لوگوں کی طرف جو وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمُ۔اعجاز امسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۵۴) ان کی پیروی کریں گے۔(ترجمہ از مرتب ) ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جلال اور جمال دونوں کے جامع تھے۔مکہ کی زندگی جمالی رنگ میں تھی اور مد۔کی زندگی جلالی رنگ میں۔اور پھر یہ دونوں صفتیں امت کے لئے اس طرح پر تقسیم کی گئیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو جلالی رنگ کی زندگی عطا ہوئی اور جمالی رنگ کی زندگی کے لئے مسیح موعود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مظہر ٹھہرایا۔یہی وجہ ہے کہ اس کے حق میں فرمایا گیا کہ يَضَعُ الحرب یعنی لڑائی نہیں کرے گا اور یہ خدا تعالیٰ کا قرآن شریف میں وعدہ تھا کہ اس حصے کے پورا کرنے کے لئے مسیح موعود اور اس کی جماعت کو ظاہر کیا جائے گا۔جیسا کہ آیت وَ اخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ میں اس کی طرف اشارہ ہے اور آیت حَتَّی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا (محمد : ۵) بھی یہی اشارہ کر رہی ہے۔(اربعین ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۴۴۳، ۴۴۴) خدا کے کلام میں یہ امر قرار یافتہ تھا کہ دوسرا حصہ اس اُمت کا وہ ہوگا جو مسیح موعود کی جماعت ہوگی۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو دوسروں سے علیحدہ کر کے بیان کیا جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَاخَرِيْنَ مِنْهُم لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ یعنی اُمت محمدیہ میں سے ایک اور فرقہ بھی ہے جو بعد میں آخری زمانہ میں آنے والے ہیں اور حدیث صحیح میں ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہا تھ سلمان فارسی کی پشت پر مارا اور فرمایاتو كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالقُرَيَا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِن فَارِسَ اور یہ میری نسبت پیشگوئی تھی۔