تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 435
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۵ سورة الجمعة فاطمی بھی ہوا پس گویا وہ نصف اسرائیلی ہوا اور نصف فاطمی ہوا جیسا کہ حدیثوں میں آیا ہے۔ہاں میرے پاس فارسی ہونے کے لئے بجز الہام الہی کے اور کچھ ثبوت نہیں لیکن یہ الہام اس زمانہ کا ہے کہ جب اس دعویٰ کا نام و نشان بھی نہیں تھا یعنی آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں لکھا گیا ہے اور وہ یہ ہے خُذُوا التَّوْحِيدَ التَّوْحِيدَ يَا ابْنَاءَ الْفَارِس یعنی توحید کو پکڑ و توحید کو پکڑ والے فارس کے بیٹو! اور پھر دوسری جگہ یہ الہام ہے۔اِنَّ الَّذِينَ صَلُّوا عَنْ سَبِيلِ اللهِ رَدَّ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ مِنْ فَارِسَ شَكَرَ اللَّهُ سَعْيَهُ یعنی جو لوگ خدا کی راہ سے روکتے تھے ایک شخص فارسی اصل نے اُن کا رڈ لکھا۔خدا نے اُس کی کوشش کا شکر یہ کیا۔ایسا ہی ایک اور جگہ براہین احمدیہ میں یہ الہام ہے تو نکانَ الْإِيمَانُ مُعَلَّها بِالقُرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ من فارس یعنی اگر ایمان ثریا پر اٹھایا جاتا اور زمین سراسر بے ایمانی سے بھر جاتی تب بھی یہ آدمی جو فارسی الاصل ہے اس کو آسمان پر سے لے آتا۔اور بنی فاطمہ ہونے میں یہ الہام ہے۔الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الصَّهْرَ وَالنَّسَبَ أَشْكُرَ نِعْمَتِي رَبَّيْتَ خَدِيجَتي یعنی تمام حد اور تعریف اس خدا کے لئے جس نے تمہیں فخر دامادی سادات اور فخر علو نسب جو دونوں مماثل و مشابہ ہیں عطا فرمایا یعنی تمہیں سادات کا داماد ہونے کی فضیلت عطا کی اور نیز بنی فاطمہ اُمہات میں سے پیدا کر کے تمہارے نسب کو عزت بخشی اور میری نعمت کا شکر کر کہ تو نے میری خدیجہ کو پایا یعنی بنی اسحاق کی وجہ سے ایک تو آبائی عزت تھی اور دوسری بنی فاطمہ ہونے کی عزت اس کے ساتھ ملحق ہوئی اور سادات کی دامادی کی طرف اس عاجز کی بیوی کی طرف اشارہ ہے جو سیدہ سندی سادات دہلی میں سے ہیں میر درد کے خاندان سے تعلق رکھنے والے۔اس فاطمی تعلق کی طرف اس کشف میں اشارہ ہے جو آج سے تیس برس پہلے براہین احمدیہ میں شائع کیا گیا جس میں دیکھا تھا کہ حضرات پنج تن سید الکونین حسنین فاطمتہ الزہراء اور علی رضی اللہ عنہ عین بیداری میں آئے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کمال محبت اور مادرانہ عطوفت کے رنگ میں اس خاکسار کا سر اپنی ران پر رکھ لیا اور عالم خاموشی میں ایک غمگین صورت بنا کر بیٹھے رہے۔اُسی روز سے مجھ کو اس خونی آمیزش کے تعلق پر یقین بھی ہوا۔فالحمد لله على ذلك۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۱۴ تا ۱۱۸) منعم علیہم کے کامل طور پر مصداق باعتبار کثرت کمیت اور صفائی کیفیت اور نعماء حضرت احدیت از روئے نص صریح قرآنی اور احادیث متواترہ حضرت مرسل یزدانی دو گروہ ہیں۔ایک گروہ صحابہ اور دوسرا گروہ جماعت مسیح موعود کیونکہ یہ دونوں گروہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کے تربیت یافتہ ہیں کسی اپنے