تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 309
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٠٩ سورة النجم وَ اَنْ لَّيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى انسان کو وہی ملتا ہے جو سعی کرتا ہے۔جو اس نے کوشش کی ہو۔یعنی عمل کرنا اجر پانے کے لئے ضروری ہے۔جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۳۱) اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ انسان بے دست و پا ہو کر بیٹھ رہے بلکہ اُس نے صرف فرمایا ہے وَ آن نیس لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى اس لیے مومن کو چاہیے کہ وہ جد و جہد سے کام کرے، لیکن جس قدر مرتبہ مجھ سے ممکن ہے یہی کہوں گا کہ دنیا کو مقصود بالذات نہ بنالو۔دین کو مقصود بالذات ٹھہراؤ اور دُنیا اس کے لئے بطور خادم اور مرکب کے ہو۔الحکم جلد ۴ نمبر ۲۹ مورخه ۱۶ اگست ۱۹۰۰ صفحه ۴) کمالات تو انسان کو مجاہدات سے حاصل ہوتے ہیں مگر جن کو سہل نسخہ مسیح کے خون کامل گیا وہ کیوں مجاہدات کرے گا۔اگر مسیح کے خون سے کامیابی ہے تو پھر ان کے لڑکے امتحان پاس کرنے کے واسطے کیوں مدرسوں میں محنتیں اور کوششیں کرتے ہیں چاہئے کہ وہ تو صرف خون پر بھروسہ رکھیں اور اس سے کامیاب ہوں اور کوئی محنت نہ کریں اور مسلمانوں کے بچے محنتیں کر کر کے اور ٹکریں مار مار کر پاس ہوں۔اصل بات یہ ہے کیس الإنسان إلا ما سکی۔اس دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک انسان جب اپنے نفس کو مطالعہ کرتا ہے تو اسے فسق و فجور وغیر ہ معلوم ہوتے ہیں آخر وہ یقین کی حالت پر پہنچ کر ان کو صیقل کر سکتا ہے لیکن جب خون مسیح پر مدار ہے تو پھر مجاہدات کی کیا ضرورت ہے ان کی جھوٹی تعلیم سچی ترقیات سے روک رہی ہے۔سچی تعلیم والا دعائیں کرتا ہے کوششیں کرتا ہے آخر دور تا دوڑتا ہاتھ پاؤں مارتا ہوا منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے۔جب یہ بات ان کی سمجھ میں آوے گی کہ یہ سب باتیں (خون صحیح پر بھروسہ ) قصہ کہانی ہیں اور ان سے اب کوئی آثار اور نتائج مرتب نہیں ہوتے اور ادھر سچی تعلیم کی تخم ریزی کے ساتھ برکات ہوں گی تو یہ لوگ خود سمجھ لیویں گے انسان کھیتی کرتا ہے اس میں بھی محنت کرنی پڑتی ہے۔اگر ایک ملازم ہے تو اسے بھی محنت کا خیال ہے غرضیکہ ہر ایک اپنے اپنے مقام پر کوشش میں لگا ہے اور سب کا ثمرہ کوشش پر ہی ہے۔سارا قرآن کوشش کے مضمون سے بھرا پڑا ہے کلَيْسَ لِلْإِنْسَانِ الا ما سعی۔ان لوگوں کو جو ولایت میں خونِ مسیح پر ایمان لا کر بیٹھے ہیں کوئی پوچھے کیا حاصل ہوا۔مردوں یا عورتوں نے خون پر ایمان لا کر کیا ترقی حاصل کی۔یہ باتیں ہیں جو بار بار ان کے کانوں تک پہنچانی چاہئیں۔البدر جلد اوّل نمبر ۱۰ مورخه ۲ جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۷۴)