تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 308 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 308

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بر ۳۰۸ سورة النجم البدر جلد ۳ نمبر ۸ مورخه ۲۴ فروری ۱۹۰۴ صفحه ۲) الذي وفى - صوفیوں نے لکھا ہے کہ اوائل سلوک میں جو رویا یا وحی ہو اس پر توجہ نہیں کرنی چاہیے وہ اکثر اوقات اس راہ میں روک ہو جاتی ہے انسان کی اپنی خوابی اس میں تو کوئی نہیں کیونکہ یہ تواللہ تعالیٰ کا فعل ہے جو وہ کسی کو کوئی اچھی خواب دکھاوے یا کوئی الہام کرے اس نے کیا کیا؟ دیکھو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بہت وحی ہوا کرتی تھی لیکن اس کا کہیں ذکر بھی نہیں گیا گیا کہ اس کو یہ الہام ہوا یہ وحی ہوئی بلکہ ذکر کیا گیا ہے تو اس بات کا کہ ابْراهِيمَ الَّذى وَفی وہ ابراہیم جس نے وفاداری کا کامل نمونہ دکھایا۔(البدر جلد ۳ نمبر ۱۹۷۱۸ مورخه ۸ تا ۱۲ رمئی ۱۹۰۴ ء صفحه ۱۰) اس سوال کے جواب میں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے احیائے موتی کی کیفیت کے متعلق اطمینان چاہا تھا۔کیا ان کو پہلے اطمینان نہ تھا۔فرمایا۔) اصل بات یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے مکتب میں تعلیم پانے والے ہوتے ہیں اور تلامیذ الرحمن کہلاتے ہیں۔اُن کی ترقی بھی تدریجی ہوتی ہے۔اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قرآن شریف میں آیا ہے كَذلِكَ لِمُتَيَّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَهُ تَرْتِيلاً (الفرقان : (۳۳) پس میں اس بات کو خوب جانتا ہوں کہ انبیاء علیہم السلام کی حالت کیسی ہوتی ہے۔جس دن نبی مامور ہوتا ہے اُس دن اور اُس کی نبوت کے آخری دن میں ہزاروں کوس کا فرق ہو جاتا ہے۔پس یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایسا کہا۔ابراہیم تو وہ شخص ہے۔جس کی نسبت قرآن شریف نے خود فیصلہ کر دیا ہے ابراهِيمَ الَّذِى ولى۔۔۔۔۔پھر یہ اعتراض کس طرح پر ہو سکتا ہے۔اللَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ /اگست ۱۹۰۲ صفحه ۱۰) یہ کہنا کہ انسانی رنج ومحن حوا کے سیب کھانے کی وجہ سے ہیں اسلام کا یہ عقیدہ نہیں۔ہمیں تو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أَخْرى (الانعام : ۱۶۵) زید کے بدلے بکر کو سزا نہیں مل سکتی اور نہ ہی اس سے کچھ فائدہ متصور ہے۔حوا کی سیب خوری ان مشکلات اور رنج وسزا کا باعث نہیں ہے بلکہ ان کی وجوہات قرآن نے کچھ اور ہی بیان فرمائے ہیں۔(الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۶ مورخه ۲ ؍جون ۱۹۰۸ صفحه ۷)