تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 310
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۰ سورة النجم قرآن کو بہت پڑھنا چاہیئے اور پڑھنے کی توفیق خدا سے طلب کرنی چاہیے کیونکہ محنت کے سوا انسان کو کچھ نہیں ملتا کسان کو دیکھو کہ جب وہ زمین میں ہل چلاتا ہے اور قسم قسم کی محنت اٹھاتا ہے تب پھل حاصل کرتا ہے مگر محنت کے لیے زمین کا اچھا ہونا شرط ہے اسی طرح انسان کا دل بھی اچھا ہو سامان بھی عمدہ ہو سب کچھ کر بھی سکے تب جا کر فائدہ پاوے گا لَيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلا ما سعی۔دل کا تعلق اللہ تعالیٰ سے مضبوط باندھنا چاہیے جب یہ ہو گا تو دل خود خدا سے ڈرتا رہے گا اور جب دل ڈرتا رہتا ہے تو خدا کو اپنے بندے پر خود رحم آجا تا ہے اور پھر تمام بلاؤں سے اسے بچاتا ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخه ۱/۲۴ پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۰۹) دعا کا اثر ثابت ہے ایک روایت میں ہے کہ اگر میت کی طرف سے حج کیا جاوے تو قبول ہوتا ہے اور روزہ کا ذکر بھی ہے۔(ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور یہ جو ہے لَيْسَ لِلإِنْسَانِ الا ما سعی۔فرمایا کہ ) اگر اس کے یہ معنے ہیں کہ بھائی کے حق میں دعا نہ قبول ہو تو پھر سورہ فاتحہ میں اھدنا کی بجائے اھدائی ہوتا۔(البدرجلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم رمئی ۱۹۰۳ء صفحه ۱۱۵) ہم کبھی ان باتوں سے فخر نہیں کر سکتے کہ رؤیا یا الہام ہونے لگے اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ رہیں اور مجاہدات سے دستکش ہورہیں اللہ تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا وہ تو فرماتا ہے لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی راہ میں وہ مجاہدہ کرے اور وہ کام کر کے دکھلاوے جو کسی نے نہ کیا ہو اگر اللہ تعالیٰ صبح سے شام تک مکالمہ کرے تو یہ فخر کی بات نہیں ہوگی کیونکہ یہ تو اس کی عطا ہوگی دھیان یہ ہوگا کہ خود ہم نے اس کے لیے کیا کیا۔(البدر جلد ۳ نمبر ۱۸ ۱۹ مورخه ۸ تا ۱۶ ارمئی ۱۹۰۴ صفحه ۱۰)۔اس قسم کے لوگ ہمیشہ گزرے ہیں جو چاہتے ہیں کہ بغیر کسی قسم کی محنت اور تکلیف اور سعی اور مجاہدہ کے وہ کمالات حاصل کر لیں جو مجاہدات سے حاصل ہوتے ہیں۔صوفیاء کرام کے حالات میں لکھا ہے کہ بعض لوگوں نے آکر اُن سے کہا کہ کوئی ایسا انتظام ہو کہ ہم پھونک مارنے سے ولی ہو جاویں۔ایسے لوگوں کے جواب میں انہوں نے یہی فرمایا ہے کہ پھونک کے واسطے بھی تو قریب ہونے کی ضرورت ہے، کیونکہ پھونک بھی دور سے نہیں لگتی۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَيْسَ لِلإِنسَانِ إلا ما سعی یعنی کوئی انسان بغیر سعی کے کمال حاصل نہیں کر سکتا۔یہ خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ قانون ہے۔پھر اس کے خلاف اگر کوئی کچھ حاصل کرنا چاہے تو وہ خدا تعالیٰ کے قانون کو توڑتا ہے اور اسے آزماتا ہے۔اس لیے محروم رہے گا۔دنیا کے عام کا روبار میں بھی تو یہ