تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 249 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 249

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۹ سورة الحجرات بدظنی ایک ایسا مرض ہے اور ایسی بُری بلا ہے جو انسان کو اندھا کر کے ہلاکت کے تاریک کنوئیں میں گرا دیتی ہے۔بدظنی ہی ہے جس نے ایک مردہ انسان کی پرستش کرائی۔بدظنی ہی تو ہے جو لوگوں کو خدائے تعالیٰ کی صفات خلق ، رحم، رازقیت وغیرہ سے معطل کر کے نعوذ باللہ ایک فرد معطل اور شے بریکار بنا دیتی ہے۔الغرض اسی بدظنی کے باعث جہنم کا بہت بڑا حصہ اگر کہوں کہ سارا حصہ بھر جائے گا تو مبالغہ نہیں۔جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ماموروں سے بدظنی کرتے ہیں وہ خدائے تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے فضل کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ صفحه ۹۸،۹۷) یہ خوب یا درکھو کہ ساری خرابیاں اور برائیاں بدظنی سے پیدا ہوتی ہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس سے بہت منع کیا ہے اور فرمایا ان بَعْضَ الظَّلِنِ اِتھ اگر مولوی ہم سے بدظنی نہ کرتے اور صدق اور استقلال کے ساتھ آکر ہماری باتیں سنتے ، ہماری کتابیں پڑھتے اور ہمارے پاس رہ کر ہمارے حالات کا مشاہدہ کرتے ، تو وہ الزام جو ہم پر لگاتے ہیں، نہ لگاتے۔لیکن جب انہوں نے خدا تعالیٰ کے اس ارشاد کی عظمت نہ کی اور اس پر کار بند نہ ہوئے ، تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجھ پر بدظنی کی اور میری جماعت پر بھی بدظنی کی اور جھوٹے الزام اور اتہام لگانے شروع کر دیئے۔یہاں تک کہ بعض نے بڑی بے باکی سے لکھ دیا کہ یہ تو دہریوں کا گروہ ہے نمازیں نہیں پڑھتے۔روزے نہیں رکھتے وغیرہ وغیرہ۔اب اگر وہ اس بدظنی سے بچتے تو ان کو جھوٹ کی لعنت کے نیچے نہ آنا پڑتا وہ اس سے بچ جاتے۔میں سچ کہتا ہوں کہ یہ بدظنی بہت ہی بری بلا ہے انسان کے ایمان کو تباہ کر دیتی ہے اور صدق اور راستی سے دور پھینک دیتی ہے دوستوں کو دشمن بنا دیتی ہے۔صدیقوں کے کمال کو حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان بدظنی سے بہت ہی بچے۔اور اگر کسی کی نسبت کوئی سوء ظن پیدا ہو، تو کثرت کے ساتھ استغفار کرے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کرے، تا کہ اس معصیت اور اس کے برے نتیجہ سے بیچ جاوے جو اس بدظنی کے پیچھے آنے والا ہے۔اس کو کبھی معمولی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔یہ بہت ہی خطرناک بیماری ہے جس سے انسان بہت جلد ہلاک ہو جاتا ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۴ مور محه ۱/۲۴ پریل ۱۹۰۵ صفحه ۲) غرض بدظنی انسان کو تباہ کر دیتی ہے یہاں تک کہ جب دوزخی جہنم میں ڈالے جاویں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو یہی فرمائے گا کہ تمہارا یہ گناہ ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ سے بدظنی کی۔بعض لوگ اس قسم کے بھی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خطا کاروں کو معاف کر دے گا اور نیکو کاروں کو عذاب کرے گا یہ بھی خدا تعالیٰ پر بدظنی ہے