تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 248
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۸ سورة الحجرات مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بَاغِينَ ظَالِمِينَ، وَفَرِيقًا کے ایک فریق کو باغی اور ظالم قرار دیتا ہے اور دوسرے کو مِنَ الْآخَرِينَ مَظْلُومِینَ، وَلكِن لَّا مظلوم کہتا ہے لیکن وہ ان میں سے کسی کو اسلام کا تارک قرار يُسمّى أَحَدًا مِنْهُمَا مُرْتَدِيْنَ وَكَفَاكَ نہیں دیتا۔پس اگر تم متقی ہو تو تمہارے لئے یہ نصیحت کافی هذِهِ الْهِدَايَةُ إِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُتَّقِينَ ہے۔تم اپنے آپ کو ان آیات کی زد میں نہ لاؤ اور ہلاک فَلَا تُدْخِلْ نَفْسَك تحت هذه الآيات کرنے والے امور کو اختیار کرنے میں جلد بازی سے کام نہ وَلَا تُبَادِرُ إِلَى الْمُهْلِكَاتِ، وَلَا تَفْعُد مع لو اور زیادتی کرنے والوں کے ساتھ نشست برخواست نہ الْمُعْتَدِينَ رکھو۔(ترجمہ از مرتب) (سر الخلافة ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۳۰،۳۲۹) ایک قوم دوسری قوم سے ٹھٹھا نہ کرے ہو سکتا ہے کہ جن سے ٹھٹھا کیا گیا ہے وہی اچھے ہوں۔بعض عورتیں بعض عورتوں سے ٹھٹھا نہ کریں ہو سکتا ہے کہ جن سے ٹھٹھا کیا گیا ہے وہی اچھی ہوں اور عیب مت لگاؤ۔اپنے لوگوں کے بڑے بڑے نام مت رکھو۔بد گمانی کی باتیں مت کرو اور نہ عیبوں کو گریڈ گرید کر پوچھو۔ایک دوسرے کا گلہ مت کرو۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۰) پلید دل سے پلید با تیں نکلتی ہیں اور پاک دل سے پاک باتیں۔انسان اپنی باتوں سے ایسا ہی پہچانا جاتا ہے جیسا کہ درخت اپنے پھلوں سے۔جس حالت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں صاف فرما دیا کہ لا تَنَابَزُوا بِالْاَلْقَابِ یعنی لوگوں کے ایسے نام مت رکھو جو ان کو بُرے معلوم ہوں۔( تحفه غزنویه، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۴۱) تم ایک دوسرے کی چڑ کے نام نہ ڈالو یہ فعل فستاق و فجار کا ہے۔جو شخص کسی کو چڑاتا ہے وہ نہ مرے گا جب تک وہ خود اس طرح مبتلا نہ ہوگا۔اپنے بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو جب گل ایک ہی چشمہ سے پانی پیتے ہو تو کون جانتا ہے کہ کس کی قسمت میں زیادہ پانی پینا ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحه ۵۰،۴۹) چاہیے کہ ایک تمہارا دوسرے کا گلہ مت کرے۔کیا تم پسند کرتے ہو کہ مُردے بھائی کا گوشت کھاؤ اور چاہیے کہ ایک قوم دوسری قوم پر بنی نہ کرے کہ ہماری اُونچی ذات اور ان کی کم ہے ممکن ہے کہ وہ تم سے بہتر ہوں۔۔۔۔۔اور تم بُرے ناموں سے جن سے لوگ چڑتے ہیں یا اپنی ہتک سمجھتے ہیں ان کو مت پکارو ور نہ خدا کے نزدیک تمہارا نام بدکار ہوگا۔لیکچر لاہور ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۵۶ ۱۵۷)