تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 250
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۰ سورة الحجرات اس لئے کہ اُس کی صفت عدل کے خلاف کرنا ہے اور نیکی اور اس کے نتائج کو جو قرآن شریف میں اُس نے مقرر فرمائے ہیں بالکل ضائع کر دینا اور بیسود ٹھہرانا ہے۔پس یا درکھو کہ بدظنی کا انجام جہنم ہے اس کو معمولی مرض نہ سمجھو بدظنی سے نا امید کی اور نا امیدی سے جرائم اور جرائم سے جہنم ملتا ہے۔اور یہ صدق کی جڑ کاٹنے والی چیز ہے اس لئے تم اس سے بچو اور صدیق کے کمالات کو حاصل کرنے کے لئے دعائیں کرو۔الحکام جلد ۹ نمبر ۱۶ مورخه ۱۰ رمئی ۱۹۰۵ صفحه ۲) فساد اس سے شروع ہوتا ہے کہ انسان ظنون فاسدہ اور شکوک سے کام لینا شروع کرے۔اگر نیک ظن کرے تو پھر کچھ دینے کی توفیق بھی مل جاتی ہے۔جب پہلی ہی منزل پر خطا کی تو پھر منزل مقصود پر پہنچنا مشکل ہے۔بدظنی بہت بُری چیز ہے انسان کو بہت سی نیکیوں سے محروم کر دیتی ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ انسان خدا پر بدظنی شروع کر دیتا ہے۔الحکم جلد ۴ نمبر ۳۵ مورخه یکم را کتوبر ۱۹۰۰ صفحه ۲) دوسرے کے باطن میں ہم تصرف نہیں کر سکتے اور اس طرح کا تصرف کرنا گناہ ہے۔انسان ایک آدمی کو بد خیال کرتا ہے اور پھر آپ اُس سے بدتر ہو جاتا ہے۔۔۔۔سوء ظن جلدی سے کرنا اچھا نہیں ہوتا۔تصرف فی العباد ایک نازک امر ہے اس نے بہت سی قوموں کو تباہ کر دیا انہوں نے انبیاء اور ان کے اہل بیت پیر بدخلنیاں کیں۔البدر جلد نمبر۷ مورخه ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۵۴) وَلَا تَجَسَّسُوا یعنی تجسس مت کیا کرو۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۰ مورخہ ۲۷ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۷۶) اپنے بھائی کا گلہ کرنا مردہ کھانا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُمْ بَعْضاء أيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا یعنی ایک مسلمان کو چاہیے کہ دوسرے مسلمان کا گلہ نہ کرے۔کیا کوئی مسلمان اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھاوے۔و ست بچن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۶۰) ایک صوفی کے دو مرید تھے ایک نے شراب پی اور نالی میں بیہوش ہو کر گرا دوسرے نے صوفی سے شکایت کی۔اس نے کہا تو بڑا بے ادب ہے کہ اس کی شکایت کرتا ہے اور جا کر اُٹھا نہیں لاتا۔وہ اسی وقت گیا اور اُسے اُٹھا کر لے چلا۔کہتے تھے کہ ایک نے تو بہت شراب پی لیکن دوسرے نے کم پی کہ اُسے اُٹھا کر لے جارہا ہے۔صوفی کا مطلب یہ تھا کہ تو نے اپنے بھائی کی غیبت کیوں کی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے غیبت کا حال پوچھا تو فرمایا کہ کسی کی سچی بات کا اس کی عدم موجودگی میں اس طرح سے بیان کرنا کہ اگر وہ