تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 174
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۴ سورة الشورى ر بودگی طاری ہوتی ہے تب میں ایک تبدیل یافتہ چیز کی مانند ہو جاتا ہوں اور میری حس اور میرا ادراک اور ہوش مو بگفتن باقی ہوتا ہے مگر اُس وقت میں پاتا ہوں کہ گویا ایک وجود شدید الطاقت نے میرے تمام وجود کو اپنی مٹھی میں لے لیا ہے اور اُس وقت احساس کرتا ہوں کہ میری ہستی کی تمام رگیں اُس کے ہاتھ میں ہیں اور جو کچھ میرا ہے اب وہ میر انہیں بلکہ اُس کا ہے جب یہ حالت ہو جاتی ہے تو اُس وقت سب سے پہلے خدا تعالیٰ دل کے اُن خیالات کو میری نظر کے سامنے پیش کرتا ہے جن پر اپنے کلام کی شعاع ڈالنا اس کو منظور ہوتا ہے تب ایک عجیب کیفیت سے وہ خیالات یکے بعد دیگرے نظر کے سامنے آتے ہیں اور ایسا ہوتا ہے کہ جب ایک خیال مثلاً زید کی نسبت دل میں آیا کہ وہ فلاں مرض سے صحت یاب ہوگا یا نہ ہو گا تو جھٹ اُس پر ایک ٹکڑا کلام الہی کا ایک شعاع کی طرح گرتا ہے اور بسا اوقات اُس کے گرنے کے ساتھ تمام بدن ہل جاتا ہے پھر وہ مقدمہ طے ہو کر دوسرا خیال سامنے آتا ہے ادھر وہ خیال نظر کے سامنے کھڑا ہوا اور ادھر ساتھ ہی ایک ٹکڑا الہام کا اُس پر گرا جیسا کہ ایک تیرانداز ہر یک شکار کے نکلنے پر تیر مارتا جاتا ہے اور عین اس وقت میں محسوس ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ خیالات کا ہمارے ملکہ فطرت سے پیدا ہوتا ہے اور کلام جو اُس پر گرتا ہے وہ اوپر سے نازل ہوتا ہے اگر چہ شعراء وغیرہ کو بھی سوچنے کے بعد القا ہوتا ہے مگر اس وحی کو اس سے مناسبت دینا سخت بے تمیزی ہے کیونکہ وہ القاخوض اور فکر کا ایک نتیجہ ہوتا ہے اور ہوش و حواس کی قائمی اور انسانیت کی حد میں ہونے کی حالت میں ظہور کرتا ہے لیکن یہ القا صرف اس وقت ہوتا ہے کہ جب انسان اپنے تمام وجود کے ساتھ خدا تعالیٰ کے تصرف میں آجاتا ہے اور اپنا ہوش اور اپنا خوض کسی طور سے اُس میں دخل نہیں رکھتا اُس وقت زبان ایسی معلوم ہوتی ہے کہ گویا یہ اپنی زبان نہیں اور ایک دوسری زبر دست طاقت اس سے کام لے بركات الدعا، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۲، ۲۳ حاشیه ) میں نے دیکھا ہے کہ اس وحی کے وقت جو برنگ وحی ولایت میرے پر نازل ہوتی ہے۔ایک خارجی اور شدیدالاثر تصرف کا احساس ہوتا ہے۔اور بعض دفعہ یہ تصرف ایسا قوی ہوتا ہے کہ مجھ کو اپنے انوار میں ایسا دبا لیتا ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ میں اُس کی طرف ایسا کھینچا گیا ہوں کہ میری کوئی قوت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔اس تصرف میں کھلا اور روشن کلام سنتا ہوں۔بعض وقت ملائکہ کو دیکھتا ہوں اور سچائی میں جو اثر اور ہیبت ہوتی ہے مشاہدہ کرتا ہوں اور وہ کلام بسا اوقات غیب کی باتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔اور ایسا تصرف اور اخذ خارجی ہوتا ہے۔جس سے خدا تعالیٰ کا ثبوت ملتا ہے۔اب اس سے انکار کرنا ایک کھلی کھلی صداقت کا رہی ہے۔