تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 175

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام خون کرنا ہے۔۱۷۵ سورة الشورى بركات الدعا، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۶) وحی الہی کے نزول کے وقت غنودگی بھی ایک خارق عادت امر ہے۔یہ جسم کے طبعی اسباب سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ جہاں تک ضرورتوں کا سامان پیش ہو ہر ایک ضرورت اور دعا کے وقت محض قدرت سے غنودگی پیدا ہو جاتی ہے مادی اسباب کا کچھ بھی اس میں دخل نہیں ہوتا۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۸۰ حاشیه ) الہام کے بارے میں ہمارا تجربہ ہے کہ تھوڑی سی غنودگی ہو کر اور بعض اوقات بغیر غنودگی کے خدا کا کلام ٹکڑہ ٹکڑہ ہو کر زبان پر جاری ہوتا ہے جب ایک ٹکڑہ ختم ہو چکتا ہے تو حالت غنودگی جاتی رہتی ہے پھر ملہم کے کسی سوال سے یا خود بخود خدا تعالیٰ کی طرف سے دوسرا ٹکڑہ الہام ہوتا ہے اور وہ بھی اسی طرح کہ تھوڑی غنودگی وارد ہو کر زبان پر جاری ہو جاتا ہے اسی طرح بسا اوقات ایک ہی وقت میں تسبیح کے دانوں کی طرح نہایت بلیغ فصیح لذیذ فقرے غنودگی کی حالت میں زبان پر جاری ہوتے جاتے ہیں اور ہر ایک فقرہ کے بعد غنودگی دور ہو جاتی ہے اور وہ فقرے یا تو قرآن شریف کی بعض آیات ہوتی ہیں اور یا اُس کے مشابہ ہوتے ہیں۔اور اکثر علوم غیبیہ پر مشتمل ہوتے ہیں۔اور ان میں ایک شوکت ہوتی ہے اور دل پر اثر کرتے ہیں اور ایک لذت محسوس ہوتی ہے۔اس وقت دل نور میں غرق ہوتا ہے۔گو یا خدا اُس میں نازل ہے۔اور دراصل اس کو الہام نہیں کہنا چاہئے بلکہ یہ خدا کا کلام ہے۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۱۴ حاشیه ) وحی کا قاعدہ ہے کہ اجمالی رنگ میں نازل ہوا کرتی ہے اور اس کے ساتھ ایک تفہیم ہوتی ہے۔مثلاً آنحضرت کو نماز پڑھنے کا حکم ہوا تو ساتھ کشفی رنگ میں نماز کا طریق، اس کی رکعات کی تعداد۔اوقات نماز وغیرہ بتادیا گیا۔علی ھذا القیاس۔جو اصطلاح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کی تفصیل اور تشریح کشفی رنگ میں ساتھ ہوتی ہے۔جن لوگوں کو وہ اس وحی کے منشاء سے آگاہ کرتا ہے اور اس کو دوسرے کے دلوں میں داخل کرتا ہے۔جب سے دُنیا ہے وحی کا یہی طرز چلا آیا ہے اور گل انبیاء کی وحی اسی رنگ کی تھی۔وحی کشفی تصویروں یا تفہیم کے سوا کبھی نہیں ہوئی اور نہ وہ اجمال بجز اس کے کسی کی سمجھ میں آسکتا ہے۔الحکم جلدے نمبر ۱۸ مورخہ ۱۷ رمئی ۱۹۰۳ء صفحه ۲) طبیبوں نے نیند کے لئے طبیعی اسباب مقرر کیے ہیں، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ کا ارادہ ہوتا ہے کہ ہم سے کلام کرے۔اس وقت پوری بیداری میں ہوتے ہیں اور یکدم ربودگی اور غنودگی وارد کر دیتا ہے اور اس