تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 173
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۳ سورة الشورى کلام تمام آسمانوں میں پھر جاتا ہے اور کوئی نہیں سمجھتا کہ اس کے کیا معنی ہیں اور خوف الہی سے ہر یک فرشتہ کانپنے لگتا ہے کہ خدا جانے کیا ہونے والا ہے اور اس ہولناک آواز کو سن کر ہر ایک فرشتہ پر غشی طاری ہو جاتی ہے اور وہ سجدہ میں گر جاتے ہیں۔پھر سب سے پہلے جبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام سجدہ سے سر اٹھاتا ہے اور خدا تعالیٰ اس وحی کی تمام تفصیلات اُس کو سمجھا دیتا ہے اور اپنی مراد اور منشاء سے مطلع کر دیتا ہے تب جبرائیل اُس وحی کو لے کر تمام فرشتوں کے پاس جاتا ہے جو مختلف آسمانوں میں ہیں اور ہر یک فرشتہ اُس سے پوچھتا ہے کہ یہ آواز ہولناک کیسی تھی اور اس سے کیا مراد تھی تب جبرائیل اُن کو یہ جواب دیتا ہے کہ یہ ایک امرحق ہے اور خدا تعالی بلند اور نہایت بزرگ ہے یعنی یہ وحی اُن حقائق میں سے ہے جن کا ظاہر کرنا اُس العلم الكبير نے قرین مصلحت سمجھا ہے تب وہ سب اُس کے ہم کلام ہو جاتے ہیں۔پھر جبرائیل اس وحی کو اس جگہ پہنچا دیتا ہے جس جگہ پہنچانے کے لئے اُس کو حکم تھا خواہ آسمان یا زمین۔اب اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نزول وحی کے وقت جبرائیل آسمان پر ہی ہوتا ہے اور پھر جیسا کہ خدا تعالیٰ نے اُس کی آواز میں قوت اور قدرت بخشی ہے اپنے محل میں اُس وحی کو پہنچا دیتا ہے۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۰۶ تا ۱۰۹) جب باری تعالیٰ کا ارادہ اس طرف متوجہ ہوتا ہے کہ اپنا کلام اپنے کسی مہم کے دل تک پہنچا دے تو اس کی اس متکلمانہ حرکت سے معاً جبریلی نور میں القا کے لئے ایک روشنی کی موج یا ہوا کی موج یا ملہم کی تحریک لسان کے لئے ایک حرارت کی موج پیدا ہو جاتی ہے اور اس تموج یا اس حرارت سے بلا توقف وہ کلام ملہم کی آنکھوں کے سامنے لکھا ہوا دکھائی دیتا ہے یا کانوں تک اس کی آواز پہنچتی ہے یا زبان پر وہ الہامی الفاظ جاری ہوتے ہیں اور روحانی حواس اور روحانی روشنی جو قبل از الہام ایک قوت کی طرح ملتی ہے۔یہ دونوں قو تیں اس لئے عطا کی جاتی ہیں کہ تا قبل از نزول الہام الہام کے قبول کرنے کی استعداد پیدا ہو جائے کیونکہ اگر الہام ایسی حالت میں نازل کیا جاتا کہ ملہم کا دل حواس روحانی سے محروم ہوتا یا روح القدس کی روشنی دل کی آنکھ کو پہنچی نہ ہوتی تو وہ الہام الہی کو کن آنکھوں کی پاک روشنی سے دیکھ سکتا۔سواسی ضرورت کی وجہ سے یہ دونوں پہلے ہی ا سے ملہمین کو عطا کی گئیں۔توضیح مرام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۹۳) مجھے اس جل شانہ کی قسم ہے کہ یہ بات واقعی صحیح ہے کہ وحی آسمان سے دل پر ایسی گہرتی ہے جیسے کہ آفتاب کی شعاع دیوار پر۔میں ہر روز دیکھتا ہوں کہ جب مکالمہ الہیہ کا وقت آتا ہے تو اول یک دفعہ مجھ پر ایک