تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 172 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 172

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۲ سورة الشورى کتاب آسمانی نازل ہو جایا کرے یا خدائے تعالیٰ یونہی بلا ضرورت حقہ کسی کی طہارت لازمی کی وجہ سے لازمی اور دائمی طور پر اس سے ہر وقت باتیں کرتا رہے بلکہ خدا کی کتاب اُسی وقت نازل ہوتی ہے جب فی الحقیقت اس کے نزول کی ضرورت پیش آجائے۔اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ وحی اللہ کے نزول کا اصل موجب خدائے تعالیٰ کی رحمانیت ہے کسی عامل کا عمل نہیں اور یہ ایک بزرگ صداقت ہے جس سے ہمارے مخالف برہمو وغیرہ بے خبر ہیں۔(براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۲۰،۴۱۹ حاشیه ) ذریعہ وحی اور الہامہے جو اسی غرض سے انسان کو دیا گیا ہے تا انسان کو ان معارف اور حقائق تک پہنچا دے کہ جن تک مجزر و عقل پہنچا نہیں سکتی اور وہ اسرار دقیقہ اُس پر کھولے جو عقل کے ذریعہ سے کھل نہیں سکتے۔آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۳۰ حاشیه ) اصل حقیقت وحی کی یہ ہے جو نزول وحی کا بغیر کسی موجب کے جو مستدعی نزول وحی ہو ہر گز نہیں ہوتا۔بلکہ ضرورت کے پیش آجانے کے بعد ہوتا ہے اور جیسی جیسی ضرورتیں پیش آتی ہیں بمطابق ان کے وحی بھی نازل ہوتی ہے کیونکہ وحی کے باب میں یہی عادت اللہ جاری ہے کہ جب تک باعث محرک وحی پیدا نہ ہولے تب تک وحی نازل نہیں ہوتی۔اور خود ظاہر بھی ہے جو بغیر موجودگی کسی باعث کے جوتحریک وحی کی کرتا ہو یونہی بلا موجب وحی کا نازل ہو جانا ایک بے فائدہ کام ہے جو خداوند تعالیٰ کی طرف جو حکیم مطلق ہے اور ہر یک کام برعایت حکمت اور مصلحت اور مقتضاء وقت کے کرتا ہے منسوب نہیں ہوسکتا۔ہوتا ہے۔برائین احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۷۵ حاشیہ نمبر ۲) بعض دفعہ وحی اس طرح بھی نازل ہوتی ہے کہ کوئی کاغذ یا پتھر وغیرہ دکھایا جاتا ہے جس پر کچھ لکھا ہوا ( بدر جلد نمبر ۲۳ مورخه ۷ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحه ۲) بخاری نے اپنی صحیح میں اور ایسا ہی ابو داؤد اور ترمذی اور ابن ماجہ نے اور ایسا ہی مسلم نے بھی اس پر اتفاق کیا ہے کہ نزول جبرائیل کا وحی کے ساتھ انبیاء پر وقتاً فوقتاً آسمان سے ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اور اس کی تائید میں ابن جریر اور ابن کثیر نے یہ حدیث بھی لکھی ہے۔۔۔۔۔۔نواس بن سمعان سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس وقت خدا تعالیٰ ارادہ فرماتا ہے کہ کوئی امر وحی اپنی طرف سے نازل کرے تو بطور وحی منتظم ہوتا ہے یعنی ایسا کلام کرتا ہے جو ابھی اجمال پر مشتمل ہوتا ہے اور ایک چادر پوشیدگی کی اُس پر ہوتی ہے تب اُس مجوب المفہوم کلام سے ایک لرزہ آسمانوں پر پڑ جاتا ہے۔جس سے وہ ہولناک