تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 171
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 121 سورة الشورى کا فرکب مان سکتے تھے اگر خدا کی مہر اس پر نہ ہوتی۔ہمیں بھی اگر کوئی کشف، رؤیا یا الہام ہوتا ہے تو ہمارا دستور ہے کہ اُسے قرآن مجید پر عرض کرتے ہیں اور اسی کے سامنے پیش کرتے ہیں۔اور پھر یہ بھی یا درکھو کہ اگر کوئی الہام قرآن مجید کے مطابق بھی ہو لیکن کوئی نشان ساتھ نہ ہو تو وہ قابل قبول نہیں ہوتا۔قابل قبول الہام وہی ہوتا ہے جو قرآن مجید کے مطابق بھی ہو اور ساتھ ہی اس کی تائید میں نشان بھی ہوں۔الحکم جلد نمبر ۴۱ مورخه ۱۷ نومبر ۱۹۰۷ ء صفحه ۱۲) قرآن مجید میں صاف لکھا ہے کہ شیطان کی طرف سے بھی وحی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی ہوتی ہے۔جو وحی خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔اس میں ایک تاج عرات پہنایا جاتا ہے اور خدا کے بڑے بڑے نشان اس کی تائید میں گواہ بن کر آتے ہیں۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۷ نومبر ۱۹۰۷، صفحہ ۱۳) یا د رکھو ایسی باتیں ہرگز زبان پر نہ لاؤ جو قال اللہ اور قال الرسول کے برخلاف ہوں۔اس قسم کے الہامات کچھ چیز نہیں۔دیکھو بارش کا پانی سب کو خوش کرتا ہے مگر پر نالہ کا پانی لڑائی ڈالتا ہے اور فساد پیدا کرتا ہے۔جن الہامات کی تائید میں خدا کا فعل نہیں ہوتا اور نشانات الہیہ گواہی نہیں دیتے وہ ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے پر نالہ کا پانی۔الحکم جلد نمبر ۴۱ مورخہ ۷ارنومبر ۱۹۰۷ء صفحه ۱۳) نو روحی کے نازل ہونے کا یہی فلسفہ ہے کہ وہ نور پر ہی وارد ہوتا ہے۔تاریکی پر وارد نہیں ہوتا۔کیونکہ فیضان کے لئے مناسبت شرط ہے۔اور تاریکی کو نور سے کچھ مناسبت نہیں۔بلکہ نور کو نور سے مناسبت ہے اور حکیم مطلق بغیر رعایت مناسبت کوئی کام نہیں کرتا۔ایسا ہی فیضان نور میں بھی اس کا یہی قانون ہے کہ جس کے پاس کچھ نور ہے اس کو اور نور بھی دیا جاتا ہے۔اور جس کے پاس کچھ نہیں اس کو کچھ نہیں دیا جاتا۔جو شخص آنکھوں کا نور رکھتا ہے وہی آفتاب کا نور پاتا ہے اور جس کے پاس آنکھوں کا نور نہیں وہ آفتاب کے نور سے بھی بے بہرہ رہتا ہے اور جس کو فطرتی نور کم ملا ہے اس کو دوسرا نور بھی کم ہی ملتا ہے اور جس کو فطرتی نور زیادہ ملا ہے اس کو دوسرا نور بھی زیادہ ہی ملتا ہے۔(براہین احمدیہ چہار تخصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۱۹۵ ۱۹۶ حاشیه ) رحمان مطلق جیسا جسم کی غذا کو اس کی حاجت کے وقت عطا فرماتا ہے ایسا ہی وہ اپنی رحمت کا ملہ کے تقاضا سے رُوحانی غذا کو بھی ضرورت حلقہ کے وقت مہیا کر دیتا ہے ہاں یہ بات درست ہے کہ خدا کا کلام انہیں برگزیدہ لوگوں پر نازل ہوتا ہے جن سے خدا راضی ہے اور انہیں سے وہ مکالمات اور مخاطبات کرتا ہے جن سے وہ خوش ہے مگر یہ بات ہرگز درست نہیں کہ جس سے خدا راضی اور خوش ہو اس پر خواہ نخواہ بغیر کسی ضرورت حلقہ کے