تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 156
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۶ سورة الشورى باطنی میں فتور آتا ہے تو خدا کسی کو اپنے بندوں میں سے الہام دے کر دلوں کو صاف کرنے کے لئے کھڑا کر دیتا ہے۔سواس زمانہ میں اس کام کے لئے جس شخص کو اُس نے اپنے ہاتھ سے صاف کر کے کھڑا کیا ہے وہ یہی عاجز ہے۔(کشف الغطاء، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۱۹۱) ہر ایک آدمی چونکہ عقل سے مدارج یقین پر نہیں پہنچ سکتا۔اس لئے الہام کی ضرورت پڑتی ہے۔جو تاریکی میں عقل کے لئے ایک روشن چراغ ہو کر مدد دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے فلاسفر بھی محض عقل پر بھروسہ کر کے حقیقی خدا کو نہ پاسکے۔چنانچہ افلاطون جیسا فلاسفر بھی مرتے وقت کہنے لگا کہ میں ڈرتا ہوں۔ایک بت پر میرے لئے ایک مرغا ذبح کرو۔اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہوگی۔افلاطون کی فلاسفی اس کی دانائی اور دانشمندی اس کو وہ سچی سکینت اور اطمینان نہیں دے سکے جو مومنوں کو حاصل ہے۔یہ خوب یاد رکھو کہ الہام کی ضرورت قلبی اطمینان اور دلی استقامت کے لئے اشد ضروری ہے۔میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے عقل سے کام لو اور یہ یاد رکھو کہ جو عقل سے کام لے گا۔اسلام کا خدا اسے ضرور ہی نظر آ جائے گا۔کیونکہ درختوں کے پتے پتے پر اور آسمان کے اجرام پر اس کا نام بڑے جلی حرفوں میں لکھا ہوا ہے۔لیکن بالکل عقل ہی کے تابع نہ بن جاؤ تا کہ الہام الہی کی وقعت کو کھو بیٹھو۔جس کے بغیر نہ حقیقی تسلی اور نہ اخلاق فاضلہ نصیب ہو سکتے ہیں۔ایک شہر میں پہنچ کر انسان پھر بھی خاص جگہ پر پہنچنے کے واسطے کسی رہبر کا محتاج ہوتا ہے تو کیا دین کی راہ معلوم کرنے اور خدا کی مرضی پانے کے واسطے انسانی ڈھکوسلے کام آسکتے ہیں؟ اور کیا صرف سفلی عقل کافی ہو سکتی ہے؟ ہرگز ہر گز نہیں جب تک اللہ تعالیٰ خود اپنی راہ کو نہ بتاوے اور اپنی مرضی کے وسائل کے حصول کے ذریعہ سے مطلع نہ کرے تب تک انسان کچھ کر نہیں سکتا۔دیکھو جب تک آسمان سے پانی نازل نہ ہوز مین بھی اپنا سبزہ نہیں نکالتی گو بیچ اس میں موجود ہی کیوں نہ ہو۔بلکہ زمین کا پانی بھی دور چلا جاتا ہے تو کیا روحانی بارش کے بغیر ہی رُوحانی زمین سرسبز ہو جاتی اور بار آور ہو سکتی ہے؟ ہر گز نہیں۔خدا کے الہام کے سوا کچھ نہیں الحکم جلدے نمبر ۹ مورخہ ۱۰؍ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۳) ہوسکتا۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۷۲) خدا تعالیٰ ابتداء زمانہ میں بولا کہ میں تیرا خدا ہوں ایسا ہی اخیر زمانہ میں بھی اس نے فرمایا کا الْمَوْجُود۔یا درکھو کہ وہ بادی ہے اگر چھوڑ دے تو سب دہریہ بن جائیں۔پس وہ اپنی ہستی کا ثبوت دیتا رہتا ہے اور یہ زمانہ تو بالخصوص اس بات کا محتاج ہے۔( بدر جلدے نمبر ۶ مورخه ۱۳ فروری ۱۹۰۸ء صفحه ۵،۴)