تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 157
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۷ سورة الشورى یہ انسان میں ایک فطرتی خاصیت ہے کہ اگر اپنے وجود کے تمام زور اور تمام قوت سے ایک چیز کو ڈھونڈے اور طلب کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھے اور پھر بھی وہ چیز میسر نہ آوے تو اس چیز کے وجود کی نسبت اس کا اعتقاد قائم نہیں رہتا بالخصوص اگر کسی ایسے شخص کو ڈھونڈتا ہو جس کی نسبت اس کا یہ اعتقاد بھی ہو کہ وہ میری اس کوشش اور اضطراب سے واقف ہے اور میری اس بیقراری پر مطلع ہے تو پھر اگر اس کی طرف سے کوئی پیغام نہ پہنچے تو بلاشبہ انکار اور نومیدی کا موجب ہوگا۔پس اس تحقیق کی رو سے یہ بات ثابت شدہ امر ہے کہ خدا تعالیٰ پر سچا یقین بغیر ذریعہ وحی اور الہام کے ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا۔ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۷۶) عظمند لوگ خدائے تعالیٰ کے فیاض مطلق ہونے پر ایمان لا کر الہامی دروازوں کو ہمیشہ گھلا سمجھتے ہیں اور کسی ولائت اور ملک سے اُس کو مخصوص نہیں رکھتے ہاں اس صراط مستقیم سے مخصوص رکھتے ہیں جس پر ٹھیک ٹھیک چلنے سے یہ برکات حاصل ہوتے ہیں کیونکہ ہر یک چیز کے حصول کے لئے یہ لازم پڑا ہوا ہے کہ انہیں قواعد اور طریقوں پر عمل کیا جائے جن کی پابندی سے وہ چیز مل سکتی ہے۔سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۷۷،۱۷۶ حاشیہ ) اے غافلو! اس امت مرحومہ میں وحی کی نالیاں قیامت تک جاری ہیں مگر حسب مراتب۔ہی کیا۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه (۳۲۱) اسلام کے زندہ ہونے کا ثبوت اور نبوت کی یقینی حقیقت جو ہمیشہ ہر ایک زمانہ میں منکرین وحی کو ساکت کر سکے اُسی حالت میں قائم رہ سکتی ہے کہ سلسلہ وحی برنگ محد ثیت ہمیشہ کے لئے جاری رہے سو اس نے ایسا بركات الدعا، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۳) یقیناً سمجھو کہ خدا تعالیٰ کا اپنے بندوں پر بڑا احسان یہی ہے کہ وہ اسلام کو مردہ مذہب رکھنا نہیں چاہتا بلکہ ہمیشہ یقین اور معرفت اور الزام خصم کے طریقوں کو کھلا رکھنا چاہتا ہے۔بھلا تم آپ ہی سوچو کہ اگر کوئی وحی نبوت کا منکر ہو اور یہ کہے کہ ایسا خیال تمہارا اسراسر وہم ہے تو اس کے منہ بند کرنے والی بجز اس کے نمونہ دکھلانے کے اور کون سی دلیل ہوسکتی ہے؟ کیا یہ خوشخبری ہے یا بد خبری که آسمانی برکتیں صرف چند سال اسلام میں رہیں اور پھر وہ خشک اور مُردہ مذہب ہو گیا ؟ اور کیا ایک بچے مذہب کے لئے یہی علامتیں ہونی ( بركات الدعاء روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۵) چاہئیں !!!